جموں: لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا نے بدھ کے روز کہا کہ ’’ایگریکلچر فرسٹ‘‘ پالیسی ترقی یافتہ بھارت اور خود کفیل جموں و کشمیر کو یقینی بنائے گی۔
وہ ایس کے یو اے ایس ٹی جموں کے زیر اہتمام تین روزہ زرعی سربراہ اجلاس اور کسان میلہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
اپنے کلیدی خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے ’’اے آئی پاورڈ ایڈوانسڈ ایگریکلچر‘‘ کے انقلابی اثرات پر بات کی اور کہا کہ ایسے ٹیکنالوجی ٹولز سستے اور قابل رسائی بنائے جائیں جو موسم، مٹی اور فصل کے ڈیٹا کی بنیاد پر پیداوار کی پیش گوئی کر سکیں تاکہ چھوٹے اور حاشیائی کسان حکمت عملی کے ساتھ فصلوں کی منصوبہ بندی کر سکیں۔
سنہا نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور زرعی ترقی ساتھ ساتھ چلنی چاہیے۔ تکنیکی ترقی نئے اسٹارٹ اپس، صنعتیں اور یونیکورن پیدا کرتی ہے جبکہ کھیت زندگی پیدا کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی مواقع پیدا کرتی ہے اور زراعت بقا فراہم کرتی ہے۔ مضبوط زراعت مضبوط قوم کی بنیاد ہے اور قومی استحکام، ترقی یافتہ معیشت اور انسانی خوشحالی کی اساس ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے زرعی سائنسدانوں اور کسان برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا زرعی شعبے میں عالمی سطح پر نمایاں مقام ان کی مسلسل محنت اور جدت کا نتیجہ ہے۔
ایل جی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ایسا مستقبل تصور کیا ہے جہاں دنیا کی ہر پلیٹ میں کم از کم ایک بھارتی ڈش موجود ہو۔ جس دن یہ ہدف حاصل ہوگا زرعی شعبہ وکست بھارت میں سب سے بڑا حصہ دار بن جائے گا۔
سنہا نے بتایا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے حالیہ دورہ یو ٹی کے دوران اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس میں جموں و کشمیر کے ڈیری سیکٹر کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا اور نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ کے ذریعے روزانہ دو لاکھ لیٹر دودھ پروسیسنگ صلاحیت کو ترجیح دینے کی ہدایت دی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے حکام، ایس کے یو اے ایس ٹی اور ماہرین کو ہدایت دی کہ آئی او ٹی سینسرز اور سیٹلائٹ امیجری استعمال کر کے ڈیجیٹل فارم ٹوئنز تیار کیے جائیں جس سے درست آبپاشی ممکن ہوگی اور پانی کے استعمال میں۵۰تا۶۰فیصد کمی آئے گی۔
سنہا نے کسان مرکوز اے آئی ٹولز بنانے پر زور دیا جو پیداوار میں۱۵تا۳۰فیصد اضافہ کریں، لاگت میں۵۰فیصد کمی لائیں اور چھوٹے اور حاشیائی کسانوں کو مٹی، فصل کی صحت اور غذائی اجزاء سے متعلق حقیقی وقت کی معلومات فراہم کریں۔
ایل جی نے کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی زراعت اور متعلقہ شعبوں میں انقلاب برپا کرے گی اور جموں و کشمیر کے چھوٹے اور حاشیائی کسانوں کے لیے مؤثر حل تیار کرنے ہوں گے۔انہوں نے دیہی سطح پر موسمیاتی مزاحم مقامی اقسام کے بیج بینک قائم کرنے کی ہدایت دی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ تہذیب کی تقدیر مٹی میں بوئے گئے ہر بیج سے وابستہ ہے اور زراعت عالمی ہلچل کے باوجود ترقی کی ضمانت دیتی رہے گی۔انہوں نے سرکلر فارمنگ ماڈلز بنانے،۲۰؍اضلاع میں پراسیسنگ سہولیات قائم کرنے اور ایف پی اوز کو براہ راست صارفین سے جوڑنے پر زور دیا تاکہ کسانوں کو زیادہ منافع مل سکے۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے وزارت زراعت و کسان بہبود، حکومت ہند کے کمیشن فار ایگریکلچرل کاسٹس اینڈ پرائسز کے تحت کراپ کلٹیویشن اسکیم کا آغاز کیا اور بائر لرننگ سنٹر برائے ایڈوانسڈ ایگریکلچرل لرننگ اینڈ انوویشن، برانڈنگ سنٹر اور پیسٹی سائیڈ کوالٹی کنٹرول لیبارٹری سمیت متعدد سہولیات کا افتتاح بھی کیا۔










