نئی دہلی: ہندوستان کی ترقی میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایک مرکزی ستون بن کر ابھری ہے، جو نہ صرف حکمرانی اور عوامی خدمات کو بہتر بنا رہی ہے بلکہ بڑے پیمانے پر شہریوں کے مسائل کا حل بھی فراہم کر رہی ہے انسانی ترقی کی تاریخ میں بجلی، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور موبائل فون نے جس طرح انقلابات برپا کیے‘ اب اے آئی اسی تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے زراعت، صحت، تعلیم اور ماحولیات جیسے شعبوں میں انسانوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
اسی وژن کو تقویت دینے کیلئے‘۱۶ سے۲۰فروری تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ‘’انڈیا:اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ منعقد کی جا رہی ہے۔ یہ ‘گلوبل ساؤتھ میں منعقد ہونے والی پہلی عالمی اے آئی سمٹ ہے، جس میں۱۵سے۲۰سربراہانِ مملکت‘۵۰سے زائد بین الاقوامی وزراء اور۱۰۰سے زیادہ عالمی سی ای اوز شرکت کر رہے ہیں۔ اس سمٹ کا مقصد اے آئی کی طاقت کو جامع ترقی اور پائیدار مستقبل کے لیے استعمال کرنا ہے۔
ہندوستان کی مکمل توجہ اے آئی کی عملی تعیناتی پر ہے تاکہ یہ عام شہری کی زندگی کو آسان بنا سکے۔ کسان ای مترا اور نیشنل پیسٹ سرویلانس سسٹم جیسے پلیٹ فارموں کے ذریعے کسانوں کو موسم کی پیشن گوئی اور فصلوں کے تحفظ میں مدد مل رہی ہے۔ اے آئی کے ذریعے بیماریوں کی جلد تشخیص اور ٹیلی میڈیسن کی سہولیات دیہی علاقوں تک پہنچائی جا رہی ہیں۔
ہندوستان کا ماننا ہے کہ اے آئی کی کامیابی اس کے استعمال کو سب کے لیے دستیاب کرانے میں ہے یعنی اس کے ثمرات ہر خاص و عام تک پہنچیں۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ صحت، زراعت اور پائیدار شہروں کے لیے مہارت کے مراکز قائم کیے گئے ہیں، جب کہ بجٹ۲۰۲۵میں تعلیم کے لیے چوتھے مرکز کا اعلان کیا گیا۔ جولائی۲۰۲۵میں اسکلنگ فار اے آئی ریڈینس (ایس او اے آر) پروگرام شروع کیا گیا جو چھٹی سے بارہویں جماعت کے طلبہ اور اساتذہ کو اے آئی کے اخلاقی استعمال کی تربیت دیتا ہے۔
نومبر۲۰۲۲میں شروع ہونے والاYUVAi پروگرام طلبہ کو۸مختلف شعبوں میں اے آئی کے اطلاق کے قابل بنا رہا ہے۔ اس کے علاوہ آئی ٹی آئی کے ذریعے۳۱نئے دور کے کورسز متعارف کرائے گئے ہیں۔
انڈیا اے آئی مشن کے تحت۵۰۰پی ایچ ڈی،۵۰۰۰پوسٹ گریجویٹ اور۸۰۰۰؍انڈر گریجویٹ طلبہ کو تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ ٹیئر۲؍اور ٹیئر۳ شہروں میں۳۱ڈیٹا اور اے آئی لیبارٹریز قائم کی جا چکی ہیں۔
سمٹ کے دوران چکر (ورکنگ گروپس) کے ذریعے مختلف موضوعات پر بحث کی جا رہی ہے۔ خاص طور پر ڈیموکریٹائزنگ اے آئی ریسورسز ورکنگ گروپ، جس کی مشترکہ صدارت ہندوستان، مصر اور کینیا کر رہے ہیں، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے کہ کمپیوٹ اور ڈیٹا جیسے وسائل تک تمام ممالک کی رسائی سستی اور منصفانہ ہو۔
نئی دہلی سے اٹھنے والی یہ لہر پورے گلوبل ساؤتھ کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے۔ ہندوستان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ڈیجیٹل انڈیا سے مصنوعی ذہانت تک کا سفر صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ کسان کے کھیت سے لے کر طالب علم کے لیپ ٹاپ تک پہنچنے والا انقلاب ہے۔ یہ سمٹ اس عہد کی تجدید ہے کہ مستقبل کی ٹیکنالوجی صرف طاقتور ممالک کے لیے نہیں ہوگی، بلکہ یہ ہر اس قوم کا ہتھیار بنے گی جو پائیدار ترقی اور مساوات پر یقین رکھتی ہے۔










