واشنگٹن /10فروری //
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ امریکہ اور کینیڈا کو ملانے والے ایک پل کو کھولنے سے روک دیں گے جب تک کہ واشنگٹن کو ’ہر اُس چیز کا مکمل معاوضہ‘ نہ مل جائے جو اس نے اپنے شمالی پڑوسی یعنی کینیڈا کو دیا ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر یہ لکھا کہ ’گورڈی ہاؤ انٹرنیشنل برج، جو کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کو امریکی ریاست مشی گن سے جوڑتا ہے، اُس وقت تک نہیں کھلے گا جب تک اوٹاوا ’امریکہ کے ساتھ وہ انصاف اور احترام نہ کرے جس کے ہم مستحق ہیں‘۔
اس منصوبے کی ویب سائٹ کے مطابق یہ پل کینیڈا کی حکومت کے فنڈ سے تعمیر ہو رہا ہے لیکن عوامی ملکیت کینیڈا اور مشی گن دونوں کے پاس ہوگی۔
یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ اس کے افتتاح کو کس طرح روک سکتے ہیں، تاہم انھوں نے کہا کہ مذاکرات فوراً شروع ہوں گے، مگر تفصیل نہیں بتائی۔
ڈیٹرائٹ دریا پر تعمیر ہونے والے اس پل کی باضابطہ ٹیسٹ اور منظوری کے بعد 2026 کے اوائل میں ٹریفک کے لیے کھلنے کی توقع ہے۔ اس پل کی تعمیر 2018 میں شروع ہوئی تھی، لیکن یہ منصوبہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا باعث رہا ہے۔
کینیڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق اس کی لاگت کا تخمینہ 6.4 ارب کینیڈین ڈالر (3.4 ارب پاؤنڈ) تک کی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کو ’کم از کم اس اثاثے کا نصف حصہ‘ ملنا چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کینیڈا پل کے دونوں اطراف کا مالک ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق منصوبہ تیار کرنے والی تنظیم، ونڈسر-ڈیٹرائٹ برج اتھارٹی، کینیڈا کی حکومت کی مکمل ملکیت ہے۔
ٹرمپ نے لکھا کہ ’کینیڈین حکومت توقع کرتی ہے کہ میں، بطور صدرِ امریکہ، انھیں اجازت دوں کہ وہ بس ’امریکہ کا فائدہ اٹھائیں!‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میں اس پل کو کھلنے نہیں دوں گا جب تک کہ امریکہ کو ہر اُس چیز کا مکمل معاوضہ نہ مل جائے جو ہم نے انھیں دیا ہے۔‘
مورون خاندان، جو امریکہ میں موجود اس ایمبیسیڈر برج کے مالک ہیں جو ڈیٹرائٹ کو کینیڈا سے جوڑتا ہے۔۔ نے ٹرمپ سے ان کی پہلی مدتِ صدارت میں اپیل کی تھی کہ نئے پل کی تعمیر روک دی جائے۔ ان کی یہ دلیل تھی کہ یہ ان کے ٹیکسز جمع کرنے کے خصوصی حق کو متاثر کرتا ہے۔
اس کے جواب میں ٹرمپ اور اُس وقت کے وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا کہ یہ پل دونوں ممالک کے درمیان ایک ’اہم اقتصادی رابطہ‘ ہے۔
ٹرمپ نے پیر کو دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تجارتی تنازعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’کینیڈا کئی سالوں سے جو ہمارے ڈیری مصنوعات پر ٹیرف عائد کرتا آ رہا ہے وہ ناقابلِ قبول ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ کینیڈا اور چین کے درمیان گذشتہ ماہ دستخط ہونے والا تجارتی معاہدہ ’کینیڈا کو تباہ کر دے گا۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’چین سب سے پہلے کینیڈا میں کھیلے جانے والا ’آل آئس ہاکی‘ کا مقابلوں کو ختم کرنے کا اعلان کرے گا اور پھر کبھی ’سٹینلی کپ‘ کا انعقاد ہی نہیں کرے گا۔‘
امریکی صدر کے مؤقف پر کینیڈا کی برج اتھارٹی، اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ کے دفتر اور ڈیٹرائٹ کے میئر کے دفتر نے فوری طور پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔









