’موجودہ حالات میں آگے بڑھنے کا راستہ اسی بجٹ سے نکلتا ہے‘/روزگار، دیہی معیشت، زراعت و باغبانی پر زور
جموں: وزیر اعلیٰ‘ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ حکومت جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے تمام وعدے پورے کرنے کے لیے پرعزم ہے اور آئندہ مالی سال کا بجٹ پائیدار معاشی ترقی، سماجی بہبود اور جامع ترقی کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
عمرعبداللہ ۶فروری کو قانون ساز اسمبلی میں پیش کیے گئے بجٹ پر جاری بحث کا جواب دے رہے تھے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت روزگار کے مواقع پیدا کرنے، بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، عوامی خدمات بہتر بنانے اور ترقی کے ثمرات کو شفاف اور مقررہ وقت میں ہر طبقے تک پہنچانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کی مستقلی کا عمل اسی سال شروع کیا جائے گا اور حکومت انہیں مسلسل سہارا فراہم کرے گی۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ اپوزیشن عوام دوست بجٹ ہضم نہیں کر پا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں عسکریت سے متاثرہ خاندانوں کے لیے ایس آر او کے تحت روزگار اسکیم۱۹۹۶میں شروع کی گئی تھی جس سے ہزاروں افراد مستفید ہوئے۔
وزیر اعلیٰ نے تین روزہ بحث میں حصہ لینے والے اراکین اسمبلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دی گئی تجاویز میں سے کئی کو آئندہ نافذ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق عوام نے مجموعی طور پر بجٹ پر مثبت ردعمل دیا ہے اور موجودہ حالات میں آگے بڑھنے کا راستہ اسی بجٹ سے نکلتا ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ حکومت کی پہلی ذمہ داری غریب اور کمزور طبقات کی مدد ہے اور بجٹ کے ذریعے ضرورت مندوں کو ریلیف دینے کی کوشش کی گئی ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت مفت ایل پی جی سلنڈر اپنی بجٹ سے فراہم کرے گی اور اس کے لیے مرکزی حکومت پر انحصار نہیں کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسے بچے جن کے والدین یا واحد کفیل فوت ہو چکے ہوں اور کسی اسکیم میں شامل نہ ہوں انہیں ماہانہ چار ہزار روپے دیے جائیں گے۔ قبائلی اور غریب طلبہ کے لیے نئی اسکالرشپ اسکیمیں بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔ گزشتہ سال خواتین کے لیے مفت بس سفر کی اسکیم کامیاب رہی اور اس سال معذور افراد کو بھی اس سہولت میں شامل کیا گیا ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ ماحول دوست ای وی بس سروس کو بڑھایا جائے گا تاہم دیگر ٹرانسپورٹ سیکٹرز کو نقصان پہنچائے بغیر متوازن معاشی سرگرمی یقینی بنائی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ بجٹ سکڑنے کی بات غلط ہے، سرمایہ جاتی اخراجات۳۶فیصد تک پہنچ چکے ہیں اور مالی سال کے اختتام تک مزید بہتر ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر دیہات میں بستا ہے اور ترقی بھی وہیں سے شروع ہوگی۔ زراعت، باغبانی، ماہی پروری، لائیوسٹاک اور ڈیری شعبے کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے۔ دودھ کی پیداوار میں ایک لاکھ لیٹر اضافے کے لیے نئی ڈیری اسکیم شروع کی جائے گی جبکہ پہلی بار موسم پر مبنی فصل بیمہ بھی متعارف کیا گیا ہے۔
عمرعبداللہ نے ہند۔امریکہ تجارتی معاہدے کی بعض شقوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اخروٹ، بادام اور سیب جیسے مقامی باغبانی شعبے متاثر ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت جموں و کشمیر کو۵۰برس تک بغیر سود مالی مدد ملے گی جو مالی طور پر بڑا ریلیف ہے۔
وزیر اعلیٰ نے نوجوانوں کے لیے مشن یووا کے تحت روزگار، ہنرمندی اور اسٹارٹ اپس کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان خطے کی معاشی ترقی کے شراکت دار بنیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت تمام علاقوں کی یکساں ترقی کے لیے پرعزم ہے اور دربار موو کی بحالی اسی عزم کا اظہار ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ حکومتی مراعات حاصل کرنے والی صنعتوں کو مقامی نوجوانوں کو ترجیحی بنیادوں پر روزگار فراہم کرنا ہوگا تاکہ صنعتی ترقی عوامی فائدے میں تبدیل ہو۔
آخر میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بجٹ۲۰۲۶۔۲۷سماجی انصاف، طویل مدتی ترقی اور جامع خوشحالی کا روڈ میپ ہے اور حکومت زمینی سطح پر نتائج دینے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔










