جموں: جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں منگل کو مختلف ریزرویشن زمرات، ان کی شرح، اور پالیسی میں ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق ایک اہم سوال کے جواب میں حکومت نے جامع بیان پیش کیا۔
یہ سوال رکن اسمبلی محمد یوسف تارگامی کی جانب سے پوچھا گیا تھا، جس میں انہوں نے موجودہ ریزرویشن ڈھانچے، سپریم کورٹ کی مقرر کردہ۵۰فیصد حد سے تجاوز کے جواز، اور پالیسی کے جائزے سے متعلق مختلف نکات اٹھائے۔
حکومت نے بتایا کہ جموں و کشمیر ریزرویشن ایکٹ اور اس کے تحت نافذ رولز کے مطابق سرکاری نوکریوں اور پیشہ ورانہ/تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لیے مختلف زمروں کے لیے مخصوص ریزرویشن مقرر ہے۔ شیڈول کاسٹ کے لیے۸فیصد، شیڈول ٹرائب کے دونوں طبقات کے لیے۱۰۔۱۰فیصد، او بی سی کے لیے۸فیصد، آئسولیشن لائن/آئی ای کے لیے۴فیصد، آر بی اے کے لیے۱۰فیصد اور اقتصادی طور پر کمزور طبقے (ای ڈبیلو ایس) کے لیے۱۰فیصد ریزرویشن مختص ہے۔
اس کے علاوہ جسمانی طور معذور افراد، سابق فوجیوں اور دیگر مخصوص زمروں کے لیے ہاریزنٹل ریزرویشن بھی نافذ ہے۔ مجموعی طور پر ریزرویشن کی حد۵۰فیصد ہے، جس میں ای ڈبیلو ایس کا اضافی۱۰فیصد شامل نہیں کیا جاتا۔
حکومت نے جواب میں کہا کہ تعلیمی اداروں میں بھی یہی شرحیں تقریباً برقرار ہیں، اور معذور افراد، دفاعی اہلکاروں کے بچوں، نیم فوجی و جموں و کشمیر پولیس کے شہداء یا سروس میں موجود اہلکاروں کے بچوں اور ممتاز اسپورٹس کارکردگی رکھنے والے امیدواروں کے لیے الگ اہلیت رکھی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کی مقرر کردہ۵۰ فیصد حد سے تجاوز سے متعلق سوال کے جواب میں حکومت نے کہا کہ مجموعی کوٹے۵۰فیصد کے اندر ہیں، جبکہ ای ڈبلیو ایس ریزرویشن آئینی طور پر اس سے مستثنیٰ ہے۔ حکومت نے مزید کہا کہ پالیسی کا باقاعدہ جائزہ لیا جاتا ہے اور ضرورت کے مطابق ترامیم بھی کی جاتی ہیں۔ او بی سی طبقات کے لیے ’کریم لیئر‘ اصول باقاعدہ نوٹیفائی کیا جاچکا ہے اور مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔
حکومت نے واضح کیا کہ مختلف حلقوں کی جانب سے پالیسی سے متعلق موصولہ خدشات اور تجاویز کے جائزے کے لیے۱۰ دسمبر۲۰۲۴کو ایک کابینہ سب کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ سب کمیٹی نے اپنی رپورٹ وزارتی کونسل کو پیش کر دی ہے اور یہ رپورٹ اس وقت مجاز اتھارٹی کے زیرِ غور ہے۔
تاریگامی کی جانب سے علاقہ وار ریزرویشن سسٹم کے امکان پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں حکومت نے کہا کہ فی الحال ایسا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں، تاہم کوشش یہی ہے کہ سماج کے مستحق طبقات کو یکساں ترقی کے مواقع ملیں۔
حکومت نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ ریزرویشن پالیسی میں مستقبل میں جو بھی تبدیلیاں متعارف کرائی جائیں گی وہ اعداد و شمار، متعلقہ محکموں کی سفارشات اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی بنیاد پر ہوں گی۔










