جموں: جموں وکشمیر کے ضلع سانبہ میں پولیس نے جعلی کرنسی کے معاملے میں گرفتار ایک ملزم سے پوچھ گچھ کے نتیجے میں۱۹کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی کوکین ضبط کی ہے۔
ایک پولیس ترجمان نے اپنے ایک بیان میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ سانبہ پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے 9ہزار روپے کی جعلی کرنسی بر آمد کی جس کے بعد پولیس اسٹیشن بری برہمنہ کے دائرہ اختیار میں تقریباً 1937.80 گرام کوکین جیسا مواد جس کی مالیت تقریباً 19.37 کروڑ روپیے ہے، کو بر آمد کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ۳فروری۲۰۲۶ کو پنجاب نیشنل بینک برانچ بری برہمنہ کے برانچ منیجر نے پولیس اسٹیشن بری برہمنہ میں ایک تحریری شکایت درج کروائی جس میں بتایا گیا کہ دل محمد ولد غلام رسول ساکن نزدیک دیجیانہ آشرم جموں نے مذکورہ بینک میں۹ہزار روپیے کی جعلی کرنسی جمع کروائی۔
ان کا کہنا ہے کہ شکایت کی بنیاد پر پولیس اسٹیشن بری برہمنہ میں بی این ایس کے متعلقہ دفعات کے تحت زیر ایف آئی آر نمبر 59/2026 ایک مقدمہ درج کیا گیا اور تفتیش شروع کی گئی۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ تفتیش کے دوران پولیس نے ملزم دل محمد ، جو اس وقت جلال آباد سنجوان جموں میں مقیم ہے، کے جموں وکشمیر بینک برانچ کنگیال جموں اور پنجاب نیشنل بیکن برانچ بری برہمنہ کے کھاتوں کے اسٹیٹمنٹس حاصل کئے۔
ترجمان نے کہا کہ جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ ملزم کو جموں وکشمیر بینک کے کھاتے میں۱۸لاکھ روپیے اور پی این بی کے کھاتے میں 2.40 لاکھ روپیے موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا’’چونکہ ملزم پیشے سے ایک ڈرائیور ہے، اس لئے بھاری بینک بیلنس کے ذرائع معلوم کرنے کی غرض سے ایس ایس پی سانبہ کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی جس میں ایس ایچ او پولیس اسٹیشن بری برہمنہ اور دیگر افسران شامل تھے‘‘۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ پولیس کی مسلسل تفتیش کے دوران ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ طویل عرصے سے کوکین کی فروخت میں ملوث رہا ہے اور اس نے یہ رقم منشیات کی اسمگلنگ کے ذریعے کمائی ہے۔
ترجمان نے کہا’’ملزم کے انکشاف پر پولیس نے جنڈال کوکو فیکٹری بری برہمنہ کے گیراج سے (جہاں وہ بطور ڈرائیور ملازم تھا) دو پیکٹ کوکین بر آمد کئے جو کارڈ بورڈ میں سیلو ٹیپ سے لپٹے ہوئے تھے اور جن کا وزن تقریباً 1937.80 گرام تھا‘‘۔
ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے مجسٹریٹ کی موجودگی میں قانونی تقاضوں کے مطابق موقع پر ہی ممنوعہ مواد کو ضبط کر دیا اور اس کے مطابق مقدمے میں این ڈی پی ایس ایکٹ کی متعلقہ دفعات بھی شامل کر لیں اور مزید تحقیقات شروع کیں۔










