جموں: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کو کہا کہ حکومت کا فی الحال نئے انتظامی یونٹ قائم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور توجہ پہلے سے منظور شدہ یونٹوں کو فعال بنانے پر مرکوز ہے۔
عمرعبداللہ اسمبلی میں ارکان کی جانب سے جموں و کشمیر میں نئے انتظامی یونٹوں کے قیام سے متعلق ضمنی سوالات کے جواب دے رہے تھے۔
وزیر اعلیٰ نے ایوان سے کہا’’یہ معاملہ یہیں ختم ہونا چاہیے۔ حکومت کا اس وقت نئے انتظامی یونٹ کھولنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پہلے سے قائم کیے گئے یونٹ درست طور پر فعال نہیں ہو سکے ہیں۔ ’’انہیں فعال بنانا، درست طریقے سے چلانا اور جہاں خلا موجود ہیں وہاں نظام قائم کرنا ہماری ذمہ داری ہے‘‘۔
عمرعبداللہ نے مزید کہا کہ ارکان اسمبلی نے شکایت کی ہے کہ ان کے حلقوں میں قائم یونٹ فعال نہیں ہوئے۔ ان کاکہنا تھا ’’جو یونٹ کھولے گئے تھے وہ فعال نہیں ہوئے۔ ہماری پہلی ذمہ داری انہیں کارآمد بنانا ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا’’انہیں فعال بنانے کے بعد جہاں بھی نئے انتظامی یونٹ قائم کرنے کی ضرورت ہوگی وہاں ضروری اقدامات کیے جائیں گے‘‘۔
اسمبلی میں رکن اسمبلی ڈاکٹر رمیشور سنگھ کے سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور نئے انتظامی یونٹ من مانے طریقے سے قائم نہیں کیے جائیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ۲۱؍اکتوبر۲۰۱۴کو نو نئی سب ڈویژنز‘۵۰ تحصیلیں اور۹۹نیابتیں منظور کی گئی تھیں جن کے تحت لوہائی اور ڈگن کو بھی تحصیلوں کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بعد میں۲۰۱۸میں یہ حکم معطل کر دیا گیا تھا، سوائے کپواڑہ ضلع کے ولگام اور قلم آباد، بارہمولہ ضلع کے سنگھ پورہ اور نارواو، ڈوڈہ ضلع کے بھلہ اور رام بن ضلع کے رامسو میں قائم تحصیلوں کے، جو بدستور نافذ رہیں۔
اس دوران حکومت نے ہفتہ کو کہا کہ یونین ٹیریٹری میں زمین کے استعمال کی تبدیلی سے متعلق ضوابط میں نرمی کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
یہ معلومات وزیر جاوید احمد رانا نے اسمبلی میں رکن اسمبلی سرجیت سنگھ سلاتھیا کے سوال کے جواب میں فراہم کیں۔ وہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے جواب دے رہے تھے۔
رانا نے کہا’’حکومت اس وقت سی ایل یو ضوابط میں کسی قسم کی نرمی دینے کا ارادہ نہیں رکھتی‘‘۔ انہوں نے واضح کیا کہ دیہی علاقوں کو موجودہ سی ایل یو قوانین سے مستثنیٰ قرار دینے کی بھی کوئی تجویز نہیں۔
وزیر نے مزید کہا کہ حکومت مقررہ فیس کم کرنے یا سی ایل یو سے متعلق طریقہ کار آسان بنانے پر بھی غور نہیں کر رہی۔اس معاملے پر ارکان اسمبلی وکرم رندھاوا، راجیو جسروٹیا اور آر ایس پٹھانیا نے ضمنی سوالات اٹھائے۔










