جموں: بی جے پی کے سینئر رہنما اور جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سنیل شرما نے ہفتہ کو کہا کہ بھارتی آئین میں جموں و کشمیر کے لیے کسی ’خصوصی حیثیت‘ کا کوئی ذکر نہیں ہے اور نیشنل کانفرنس پر الزام عائد کیا کہ وہ اس مسئلے کو بار بار اٹھا کر لوگوں کو گمراہ کر رہی ہے۔
اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ آئینی مطالبات واضح آئینی دفعات سے ثابت ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا’’جہاں تک میری معلومات اور مطالعہ ہے، بھارتی آئین میں جموں و کشمیر کے الحاق یا انضمام کے حوالے سے ‘خصوصی حیثیت’ نام کا کوئی لفظ موجود نہیں۔ جب آپ آئینی مطالبہ کرتے ہیں تو اس کی آئینی بنیاد ہونی چاہیے‘‘۔
شرما نے کہاکہ ’خصوصی حیثیت‘کی اصطلاح مختلف ریاستیں معاشی یا روزگار سے متعلق پیکیج کے لیے بھی استعمال کرتی ہیں اور اسے آرٹیکل۳۷۰سے نہیں جوڑنا چاہیے۔ انہوں نے کہا’’خصوصی حیثیت کا مطلب روزگار یا مالی پیکیج ہو سکتا ہے۔ اسے آرٹیکل ۳۷۰سے مت جوڑیں۔ آرٹیکل۳۷۰ تاریخ بن چکا ہے اور دفن ہو چکا ہے‘‘۔
ایوان میں نیشنل کانفرنس کے ایک رکن اسمبلی کی جانب سے نعرہ بازی کا حوالہ دیتے ہوئے شرما نے پوچھا کہ آئین میں ایسی حیثیت کہاں موجود ہے۔ انہوں نے کہا’’اگر کوئی مجھے دکھا دے کہ آئین میں جموں و کشمیر کے لیے خصوصی حیثیت درج ہے تو میں ہر سزا بھگتنے کو تیار ہوں، لیکن یہ دعویٰ جھوٹ ہے‘‘۔
بی جے پی رہنما نے عبداللہ خاندان پر کشمیر کے عوام کو دھوکہ دینے اور خصوصی حیثیت کے مطالبے کو طرزِ حکمرانی کی ناکامیوں چھپانے کے لیے استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو ماضی کے انتخابی وعدوں کو جواز دینے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔
شرما نے مزید کہا کہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں، بے روزگار نوجوانوں اور اے اے وائی، ڈی پی ایل اور ای ڈبلیو ایس زمروں کے مستفیدین کے مسائل حل کرنے کے بجائے حکمران جماعت محض بیانات بازی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا’’جب ناکامیوں پر سوال ہوتا ہے تو خصوصی حیثیت کا شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔ــ‘‘
شرما کے بیان پر نیشنل کانفرنس کے ارکان اسمبلی نے آرٹیکل۳۷۰کے حق میں نعرے بازی کر کے ردعمل ظاہر کیا۔ بی جے پی ارکان اسمبلی نے بھی نعرے لگائے جس سے ایوان میں چند منٹ تک ہنگامہ آرائی جاری رہی۔










