واشنگٹن /05فروری //
امریکہ کے نائب صدر جی ڈی وینس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے درمیان براہِ راست گفتگو نہ ہونے سے مذاکرات ’پیچیدہ اور غیر معمولی‘ ہو جاتے ہیں۔
امریکی نائب صدر نے یہ بات امریکی جرنلسٹ اور سیریس ایکس ایم نیٹ ورک کی میزبان مگان کیلی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
انھوں نے کہا کہ ایران میں اصل فیصلہ ساز خامنہ ای ہیں اور صدر کی حیثیت ثانوی ہے۔
ان کے مطابق امریکی حکام زیادہ تر ایران کے وزیرِ خارجہ کے ذریعے رابطے میں رہے ہیں، لیکن جب براہِ راست ملک کو چلانے والی شخصیت سے بات نہ ہو سکے تو سفارت کاری ’انتہائی دشوار‘ ہو جاتی ہے۔
جی ڈی وینس نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ براہِ راست اپنے ہم منصبوں مثلاً ولادیمیر پوتن اور شی جن پنگ سے بات کر سکتے ہیں لیکن ایران کے معاملے میں ایسا ممکن نہیں، جو ان کے بقول ’غیر معمولی‘ ہے۔
جی ڈی وینس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نہیں چاہتے کہ عراق جنگ جیسی صورتحال دوبارہ پیدا ہو۔ ان کے مطابق موجودہ امریکی پالیسی کا محور یہ ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں تک رسائی نہ ملے تاکہ خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع نہ ہو۔
وینس نے عراق جنگ کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ پہلے وہ بات چیت اور غیر فوجی طریقوں سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں گے اور اگر نتیجہ نہ نکلا تو ممکن ہے فوجی راستہ اختیار کریں تاہم میں ان کے فیصلے سے آگاہ نہیں اور اگر ہوتا بھی تو کھلے عام نہ بتاتا۔‘








