صدرِ جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کے جواب میں وزیر اعظم نریندر مودی کی لوک سبھا میں مجوزہ خطاب آج اُس وقت منسوخ کر دیا گیا، جب اپوزیشن کے شدید احتجاج کے سبب ایوان کو متعدد بار ملتوی کرنا پڑا۔
کانگریس کے راہل گاندھی‘جو یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ حکومت نے انہیں سابق آرمی چیف ایم ایم نروا نے کی غیر شائع شدہ یادداشتوں سے حوالہ دینے کی اجازت اس لیے نہیں دی کیونکہ وہ’خوف زدہ‘ ہےنے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نے خوف کے باعث ایوان میں تقریر کرنے سے گریز کیا۔
راہل گاندھی کی مجوزہ تقریر اور کل آٹھ اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کی معطلی کے بعد شروع ہونے والا ہنگامہ اُس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب بی جے پی کے نشی کانت دوبے کے بیانات سامنے آئے۔
دوبے نے کہا کہ جہاں راہل گاندھی ایک غیر شائع شدہ کتاب پر بات کرنا چاہتے ہیں، وہیں وہ (دوبے) گاندھی خاندان کو بے نقاب کرنے کے لیے کتابوں کی ایک پوری فہرست لے کر آئے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے مختلف کتابوں کے نام اور ان میں گاندھی خاندان کے مختلف افراد سے متعلق کیے گئے دعوؤں کا ذکر شروع کر دیا۔
اس دوران کرسی پر موجود کرشنا پرساد ٹینیٹی نے رول۳۴۹کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس کی اجازت نہیں دے سکتے، کیونکہ اس قاعدے کے تحت ایوان کے کاروبار کے علاوہ کسی کتاب، اخبار یا خط سے پڑھنے کی ممانعت ہے۔
جب دوبے نے تنبیہ کے باوجود اپنی بات جاری رکھی تو اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج شروع کر دیا، جس کے بعد ایوان کو ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا۔
راہل گاندھی‘جنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ حکومت انہیں قومی سلامتی جیسے نہایت اہم معاملے پر بولنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے‘نے آج اس سے قبل کہا تھا کہ وہ وزیر اعظم کو ایک کتاب پیش کریں گے، جو۲۰۲۰کے چین سرحدی بحران کے دوران سیاسی قیادت کی جانب سے فوج کو تنہا چھوڑ دینے کو بے نقاب کرتی ہے۔
راہل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنی ہندی پوسٹ میں کہا، جس کا غیر رسمی ترجمہ یوں ہے’’آج اگر وزیر اعظم پارلیمنٹ آتے ہیں تو میں انہیں ایک کتاب پیش کروں گا۔ یہ کتاب کسی اپوزیشن لیڈر کی نہیں ہے، نہ ہی کسی غیر ملکی مصنف کی ہے۔ یہ کتاب ملک کے سابق آرمی چیف جنرل نروا نے کی ہے، اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کابینہ وزرا کے مطابق یہ کتاب سرے سے موجود ہی نہیں ہے‘‘۔
راہل گاندھی نے عندیہ دیا کہ انہیں جان بوجھ کر بولنے سے روکا گیا۔ انہوں نے اس معاملے پر کل اسپیکر اوم برلا کو خط بھی لکھا تھا، جب آٹھ اپوزیشن ارکان کو سرمائی اجلاس کے بقیہ عرصے کے لیے معطل کر دیا گیا۔
وزیر اعظم کی تقریر منسوخ ہونے کے بعد راہل گاندھی نے ایک پوسٹ میں کہا’’جیسا کہ میں نے کہا تھا، وزیر اعظم مودی پارلیمنٹ نہیں آئیں گے، کیونکہ وہ خوف زدہ ہیں اور سچ کا سامنا نہیں کرنا چاہتے‘‘۔
ان کی بہن اور کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی اسی نوعیت کا بیان دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ میں داخل ہونے سے ’’بہت زیادہ خوف زدہ‘‘ ہیں۔
اس سے قبل، لوک سبھا کی کارروائی جنرل نروا نے کی ’یادداشتوں‘ سے متعلق مسائل پر اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باعث دوپہر۲بجے تک ملتوی کر دی گئی تھی۔بعد ازاں کانگریس کے ارکانِ پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ راہل گاندھی کو صدر کے خطاب پر بولنے کی اجازت دی جائے۔










