کل۳۹ ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے طے پائے ہیں‘ یہ ایک تاریخی موقع ہے‘یہ سبھی ممالک ترقی یافتہ ہیں:رجیجو
سرینگر: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز کہا کہ بھارت،امریکہ تجارتی معاہدہ ایک ’بڑا فیصلہ‘ ہے جو ملک کے ہر طبقے کو فائدہ پہنچائے گا، اور اس بات پر زور دیا کہ ان کی حکومت ہمیشہ قوم کے مفاد میں کام کرتی ہے۔
وزیر اعظم نے یہ باتیں این ڈی اے پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ کے دوران کہیں، جس میں موجود اتحاد کے ارکانِ پارلیمنٹ نے یہ جانکاری دی۔
این ڈی اے اتحاد کے اراکین نے یورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر وزیر اعظم کو مبارکباد دی اور کہا کہ ان معاہدوں سے بھارتی صنعت کاروں، برآمد کنندگان اور کاروباری افراد کو تقویت ملے گی۔
میٹنگ میں شریک ایک رکنِ پارلیمنٹ کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت،امریکہ تجارتی معاہدہ ایک ’بڑا فیصلہ‘ ہے اور اس سے ملک کے تمام شہریوں کو فائدہ ہوگا۔
بھارت اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدے کے تحت واشنگٹن نے بھارتی مصنوعات پر عائد باہمی ٹیرف کو مجموعی۵۰فیصد سے کم کرکے۱۸فیصد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ اس معاہدے کو لے کر پورے ملک میں جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔
رجیجو نے میٹنگ کے بعد کہا’’ارکانِ پارلیمنٹ میں اس بات کا جوش ہے کہ وزیر اعظم کی قیادت میں نو تجارتی معاہدے مکمل ہو چکے ہیں۔ کل۳۹ ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے طے پائے ہیں۔ یہ ایک تاریخی موقع ہے۔ یہ تمام۳۹ ممالک ترقی یافتہ ہیں‘ یہ واقعی تاریخی ہے۔ ملک میں ایک نہایت مثبت ماحول ہے‘‘۔
شیوسینا کے رکنِ پارلیمنٹ ملند دیورا نے کہا،’’وزیر اعظم مودی نے تمام ارکان کو بتایا کہ حکومت بھارت کے حق میں کام کرتی ہے، چاہے معاملہ تجارتی معاہدے کا ہو یا بجٹ کا‘‘۔
ادیورا نے کہا’’بھارت،امریکہ اور بھارت،یورپ تجارتی معاہدوں کا سہرا وزیر اعظم مودی کو جاتا ہے۔ یہ ان کے عزم کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ اس تجارتی معاہدے سے چھوٹے پیمانے کے کاروباریوں کو فائدہ ہوگا‘‘۔
شیوسینا کے رہنما اور این ڈی اے کے اہم اتحادی شریکانت شندے نے کہا’’میٹنگ کے دوران این ڈی اے رہنماؤں نے وزیر اعظم مودی جی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان نتیجہ خیز گفتگو کے بعد سامنے آنے والی بڑی پیش رفت کا خیرمقدم کیا، جس کے نتیجے میں ’میڈ اِن انڈیا‘ مصنوعات پر ٹیرف میں کمی کا اعلان ہوا‘‘۔
وزیر اعظم مودی نے ’ایکس‘ پر لکھا’’این ڈی اے پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں شرکت کی، جہاں مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا‘‘۔
این ڈی اے پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں ارکان نے نئے بی جے پی صدر نتن نابن کا بھی خیرمقدم کیا اور انہیں پارٹی کے اعلیٰ عہدے پر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔
کرن رجیجو نے کہا کہ وزیر اعظم نے این ڈی اے رہنماؤں کو بتایا کہ اتحاد عوام دوست پالیسیوں اور مسلسل محنت کی بدولت مختلف انتخابات میں کامیابی حاصل کر رہا ہے۔
وزیر اعظم نے این ڈی اے کے ارکانِ پارلیمنٹ کو یہ بھی کہا کہ وہ مختلف انتخابات، بشمول بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے باوجود مطمئن نہ ہوں بلکہ عوامی فلاح کے لیے اپنا اچھا کام جاری رکھیں۔
رجیجو نے کہا کہ وزیر اعظم نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکانِ پارلیمنٹ کو پارلیمانی اور فلاحی کاموں کو آگے بڑھانے کے لیے وسیع رہنما خطوط دیے۔انہوں نے کہا’’وزیر اعظم نے کہا کہ این ڈی اے اپنی اچھی کارکردگی کی وجہ سے ایک کے بعد ایک انتخاب جیت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمینی سطح پر موجود رہے بغیر انتخابات نہیں جیتے جا سکتے۔ ہمیں عوام کی فلاح کے لیے زمین پر رہ کر کام کرنا ہوگا‘‘۔
جے ڈی (ایس) کے رہنما اور مرکزی وزیر ایچ ڈی کماراسوامی نے کہا کہ این ڈی اے میٹنگ بھارت کی اقتصادی شراکت داریوں کو مضبوط بنانے اور ’وکست بھارت‘ کے وژن کو آگے بڑھانے کے اجتماعی عزم کی عکاس ہے۔
بی جے پی، ٹی ڈی پی، جے ڈی (یو)، ایل جے پی (آر)، شیوسینا، جے ڈی (ایس) اور این ڈی اے کے دیگر اتحادی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے میٹنگ میں شرکت کی۔
ایل جے پی (آر وی) کے رہنما اور مرکزی وزیر چراگ پاسوان نے کہا کہ این ڈی اے میٹنگ میں عام بجٹ پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جسے ملک کی ایک بڑی آبادی نے سراہا ہے۔
پاسوان نے کہا’’وزیر اعظم مودی این ڈی اے کے تمام اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھتے ہیں تاکہ بات چیت میں کوئی کمی نہ رہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ کسی بھی حکومت کی بنیاد ہوتے ہیں، اور حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں کو ہر گاؤں اور ضلع تک پہنچانا ان کی اہم ذمہ داری ہے‘‘۔
بی جے پی رکن اپراجیتا سارنگی نے کہا کہ وزیر اعظم نے اہم امور پر تفصیلی رہنمائی اور سمت فراہم کی۔انہوں نے کہا’’انہوں نے ہم سے کہا کہ ہم لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں سرگرمی سے حصہ لیں۔ انہوں نے قائمہ کمیٹیوں کے کردار پر بھی بات کی اور سب سے۱۰۰فیصد کارکردگی کی اپیل کی۔ انہوں نے ’وکست بھارت‘ کے وژن پر گفتگو کی اور بجٹ پر تفصیل سے روشنی ڈالی، جس سے ہم سب کو حوصلہ ملا‘‘۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھارت،امریکہ تجارتی معاہدے کو’تاریخی‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا اور مضبوط تجارتی تعلقات و باہمی ترقی کی راہ ہموار کرے گا۔
’ایکس‘ پر متعدد پوسٹس میں انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ’’ہمارے نوجوانوں، کاروباریوں اور ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد کیلئے لا محدود مواقع کے دروازے کھولتا ہے‘‘۔
شاہ نے کہا’’بھارت،امریکہ تعلقات کے لیے ایک بڑا دن ہے، کیونکہ۱۸فیصد تک نمایاں کمی کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے، جو مضبوط تجارتی روابط اور باہمی ترقی کی بنیاد رکھتا ہے‘‘۔
وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’تاریخی معاہدے‘ پر مبارکباد دیتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ یہ’’ہماری اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی بلندی دے گا اور دونوں ممالک اور ان کے عوام کو بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچائے گا۔ بھارت اور امریکہ کے درمیان کاروبار مزید پھلے پھولے گا‘‘۔انہوں نے کہا کہ یہ تجارتی معاہدہ بھارت کے ایم ایس ایم ای شعبے کو نئی طاقت دے گا اور چھوٹی صنعتوں کی عالمی مسابقت میں اضافہ کرے گا، جس سے روزگار بڑھے گا، نئی سپلائی چینز میں جگہ ملے گی اور سرمایہ کاری و قرض کے بہاؤ میں بہتری آئے گی۔
وزیر داخلہ نے کہا’’بھارت،امریکہ تجارتی معاہدہ بھارت کے ایم ایس ایم ایز کو نئی طاقت دے گا۔ یہ چھوٹی صنعتوں کی عالمی مسابقت بڑھائے گا، روزگار میں اضافہ کرے گا، نئی سپلائی چینز میں جگہ یقینی بنائے گا اور سرمایہ کاری و کریڈٹ کے بہاؤ کو مضبوط کرے گا‘‘۔
شاہ نے اس اقدام پر وزیر اعظم مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کے چھوٹے کاروباریوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے مزید کہا’’بھارت کے تیزی سے بڑھتے سافٹ ویئر اور خدماتی شعبے کو نئی توانائی دیتے ہوئے، بھارت،امریکہ تجارتی معاہدہ ملک کو ایک نئے معاشی عروج کی طرف لے جا رہا ہے۔‘‘










