جموں: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کے روز اساتذہ پر زور دیا کہ وہ مستقبل کی ضروریات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے طلبہ کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے اثرات، ماحولیاتی تبدیلیوں اور بدلتی دنیا کے چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنائیں، تاکہ ایک متحرک اور اختراع پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھی جا سکے۔
لیفٹیننٹ گورنر امر اُجالا گروپ کے زیرِ اہتمام پدم شری پدم سچدیوا گورنمنٹ کالج فار ویمن، گاندھی نگر جموں میں منعقدہ ’انسپیرایشنل ٹیچرز ایوارڈ‘ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
اس موقع پر جموں کے مختلف اسکولوں سے تعلق رکھنے والے۱۰۱نمایاں اور متاثر کن اساتذہ کو اعزاز سے نوازا گیا۔
اپنے خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اساتذہ اور ان کا فن کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی اور قوم کی روح ہوتے ہیں۔ ایک استاد کردار سازی کرتا ہے اور ایسی صلاحیتیں پروان چڑھاتا ہے جو نوجوانوں کو غیر یقینی مستقبل کا سامنا کرنے کا حوصلہ اور ہنر فراہم کرتی ہیں۔
سنہا نے کہا کہ ایک ماہر کاریگر کی طرح استاد جانتا ہے کہ سیکھنے کا عمل محض تجسس سے جنم لیتا ہے۔ متاثر کن اساتذہ رٹہ سسٹم سے گریز کرتے ہیں، سائنس کو دلچسپ کہانیوں میں ڈھالتے ہیں اور تاریخ کو محض تاریخوں تک محدود رکھنے کے بجائے انسانی کامیابیوں اور ناکامیوں کی زندہ داستان بنا دیتے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہمیں ایسے اساتذہ کی ضرورت ہے جو طلبہ کو محض سامعین کے بجائے جستجو کرنے والے محققین میں بدل دیں۔ انہوں نے کہا’’ایک کلاس روم صرف چار دیواریں اور تختہ سیاہ نہیں، بلکہ ایک بھٹی ہے جہاں مستقبل کو نیا روپ دیا جاتا ہے‘‘۔
ایل جی نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ طلبہ میں سوال اٹھانے کی عادت پیدا کریں تاکہ علم پر مبنی معیشت اور متحرک سماج تشکیل دیا جا سکے، جہاں طلبہ معلومات کے محض صارف نہ ہوں بلکہ اس کا تجزیہ کرنے والے بنیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کلاس روم میں اشتراک اور ٹیم ورک کے فروغ پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ آنے والا کل اُنہی کا ہے جو مل کر کام کرتے ہیں، اس لیے تعلیمی اداروں کو تحقیق، تحریر اور اختراع کے مراکز میں تبدیل کرنا ہوگا۔
سنہا نے نصاب کی حدود سے آگے سوچنے، تعلیم کو عملی زندگی سے جوڑنے اور ہر دن کو نئی دریافت کا ذریعہ بنانے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کے اس دور میں تدریس کا مقصد رٹوانا نہیں بلکہ تخلیقی صلاحیتوں کی آبیاری ہے، کیونکہ مستقبل میں انسانیت کا سب سے بڑا سرمایہ اختراعی اور تخلیقی سوچ ہوگی۔
آخر میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ روایتی حدود توڑ کر ہر طالب علم کو صرف علم نہیں بلکہ لامحدود امکانات فراہم کریں۔










