جموں: جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں منگل کے روز بی جے پی سے وابستہ ممبروں نے جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کے حق میں آواز بلند کی۔
منگل کے روز جوں ہی ایوان کی کارروائیاں شروع ہوئیں تو بی جے پی سے وابستہ اراکین اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کیا۔
اراکین نے ہاتھوں میں پوسٹر اٹھا رکھے تھے اور وہ جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کا پر زور مطالبہ کر رہے تھے۔
بی جے پی ایم ایل اے سرجیت سنگھ سلاتھیا نے جموں یونیورسٹی کے طلباء کا مسئلہ اٹھایا جو لاء یونیورسٹی کے مطالبے کی حمایت میں سڑکوں پر ہیں۔
انہوں نے کہا’’ ہم کشمیر کے لیے نیشنل لاء یونیورسٹی (این ایل یو) دینے کے خلاف نہیں ہیں بلکہ جموں کے لیے بھی ایسی ہی ایک یونیورسٹی چاہتے ہیں جو خطے کے طلبہ کی مانگ کو پورا کرے‘‘۔
اس دوران بی جے پی کے دیگر ممبران اسمبلی بھی کھڑے ہوئے اور مطالبے کی حمایت میں پلے کارڈز دکھائے اور ’’جموں کے لیے این ایل یو‘‘ جیسے نعرے بھی لگائے۔
بی جے پی کے رکن اسمبلی بلونت سنگھ منکوٹیہ نے کہا’’بی جے پی کا ماننا ہے کہ نیشنل لا یونیورسٹی کا قیام جموں میں ہی ہونا چاہئے کیونکہ جموں نہ صرف سیکورٹی کے لحاظ سے بہتر جگہ ہے بلکہ موسم اور سڑک رابطے کے لحاظ سے بھی ایک مناسب اور موزوں جگہ ہے‘‘۔
ادھر رکن اسمبلی خورشید احمد نے بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت طلبا مخالف ہے۔
احمد نے کہا’’یہ جماعت جو جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کر رہی ہے وہی جماعت ہے جس نے شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کے بند ہونے پر خوشی منائی‘‘۔
قابل ذکر ہے کہ جموں کے طلبا گذشتہ کئی دنوں سے جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔










