جموں: پیپلز کانفرنس کے صدر اور رکن اسمبلی سجاد لون نے نیشنل کانفرنس کے ریاستی درجے کی بحالی کے لئے اسمبلی کے باہر احتجاج کو ڈرامہ قرار دیا ۔
لون نے کہا’’یہ ڈرامہ ہے، انہیں جو کرنا وہ ایوان کے اندر کرنا چاہئے کیونکہ جو آرکائیوز سو برسوں کے بعد بھی دیکھے جائیں گے وہ اندر کے دیکھے جائیں گے باہر کے نہیں‘‘۔ ان کا کہناتھا’’اگر وہ اس کے حق میں ہیں انہیں اس کے لئے ووٹ کرنا چاہئے، باہر احتجاج کرنے سے کچھ بھی نہیں ہوگا‘‘۔
پیپلز کانفرنس کے صدر نے ان باتوں کا اظہار منگل کو نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دینے کے دوران کیا۔
نیشنل لا یونیورسٹی کے جموں میں قیام کے مطالبے کو لے کر بی جے پی کے اراکین کے احتجاج کے بارے میں پوچھے جانے پر لون نے کہا’’بدقسمتی سے اکثر اراکین اسمبلی کو یہ معلوم نہیں ہے کہ این ایل یو جو ہے یہ ایک سٹیٹ یونیورسٹی ہے اس کا نام صرف نیشنل یونیوسٹی ہے یہ سال۲۰۱۸میں منظور ہوئی تھی جب ہم بھی کابینہ میں تھے، اس کا کوئی ہزاروں کروڑ کا بجٹ نہیں ہے اس چھوٹی سے چیز پر اتنا شور نہیں اٹھانا چاہئے، اور شور بھی وہ لوگ اٹھا رہے ہیں جنہوں نے ایک میڈیکل کالج کے بند ہونے پہر مٹھائیاں بانٹیں‘‘۔
عارضی ملازمین کے بارے میں انہوں نے کہا’’ہم نے۶ ترامیم لائے جن میں سے۲کو مسترد کر دیا گیا جبکہ۴کو منظور کیا گیا ان میں سے عارضی ملازمین کے متعلق بھی ایک ہے۔‘‘










