جموں: جموں کشمیر کے ضلع ادھم پور کے دشوارگزار بسنت گڑھ علاقے میں منگل کی شام سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
فوج کی وائٹ نائٹ کور نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد سیکورٹی فورسز نے جوں ہی ادھم پور کے بسنت گڑھ علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا تو وہاں پر موجود دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کی چنانچہ سلامتی عملے نے بھی بھر پور جوابی کارروائی کا آغاز کیا جس دوران شدید گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا۔
فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر اضافی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں جبکہ ڈرون کیمروں سے فضائی نگرانی بھی تیز کر دی گئی ہے۔ علاقہ چونکہ گھنے جنگلات اور کھڑی ڈھلوانوں پر مشتمل ہے، اس لیے فورسز نہایت احتیاط کے ساتھ آپریشن کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ مقامی لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ دہشت گردوں کو مار گرانے کی خاطر اضافی کمک جنگلی علاقے کی طرف روانہ کی گئی ہے۔
آخری اطلاعات موصول ہونے تک علاقے میں گولیوں کا تبادلہ جاری تھا۔ اس سلسلے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
اس دوران کے ضلع کشتواڑ کے برف پوش اور انتہائی دشوارگذار چھاترو علاقے میں جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائی منگل کو بھی پوری شدت کے ساتھ جاری رہی، جہاں فوج، پولیس اور پیرا ملٹری فورسز نے مشترکہ آپریشن کے تحت جنگل کے وسیع و عریض خطے کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔
تین غیر ملکی دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات کے بعد سکیورٹی فورسز نے آپریشن کو مزید وسعت دی ہے جبکہ ہیلی کاپٹروں اور جدید ڈرون کیمروں کی مدد سے بالائی علاقوں کی مسلسل فضائی نگرانی کی جارہی ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے پیش آئے اس جھڑپ میں ایک فوجی اہلکار شہید جبکہ سات زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد فورسز نے علاقے میں سرچ گرڈ کو مزید سخت کرتے ہوئے جنگل کے ہر راستے کو سیل کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جھڑپ کے دوران ایک دہشت گرد کے زخمی ہونے کے بھی قوی شواہد ملے تھے، جو گہری برف اور گھنے جنگل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ساتھیوں سمیت فرار ہوگیا۔
ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ چھاترو کے پہاڑی اور برفانی سلسلے میں آپریشن کرنا فورسز کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہورہا ہے، کیونکہ خطہ نہ صرف جغرافیائی طور پر پیچیدہ ہے بلکہ موجودہ موسم میں درجہ حرارت منفی میں ہونے کے باعث فورسز کی پیش قدمی میں اضافی مشکلات درپیش ہیں۔
اس کے باوجود، فوج نے علاقے میں ڈرونز، جدید نائٹ ویژن آلات اور ہائی الٹیٹیوڈ ٹیموں کو متحرک کر رکھا ہے۔ ذرائع کے مطابق، آپریشن کی نگرانی اعلیٰ فوجی اور پولیس افسران کر رہے ہیں، جبکہ زمینی دستے چھوٹے چھوٹے گروپوں میں مشکوک جگہوں کی تلاشی لے رہے ہیں۔
گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متعدد بار فضائی سروے کیا گیا ہے تاکہ فرار شدہ دہشت گردوں کے ممکنہ ٹھکانوں کی نشاندہی کی جاسکے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ دہشت گردوں کا گروہ جیشِ محمد سے وابستہ سمجھا جارہا ہے، جنہوں نے حالیہ مہینوں میں چناب ویلی کے پہاڑی جنگلات میں اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ حالیہ مہینوں میں ڈوڈہ، کشتواڑ اور رام بن کے جنگلات میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں اضافہ سکیورٹی اداروں کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے، جس کے بعد مشترکہ آپریشنز کو مزید تیز کیا گیا ہے۔
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کسی بھی وقت کئی دنوں تک جاری رہ سکتا ہے، کیونکہ دہشت گرد انتہائی تربیت یافتہ اور علاقے کے جغرافیہ سے واقف ہیں۔ حکام نے بتایا کہ زمینی فورسز کو اس بات کا امکان ہے کہ دہشت گرد موسم اور جغرافیہ کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کریں گے، لہٰذا ہر قدم انتہائی احتیاط سے اٹھایا جارہا ہے۔
ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کا عزم ہے کہ دہشت گردوں کو جلد از جلد گھیر کر یا تو گرفتار کیا جائے یا پھر انہیں مار گرایا جائے گا۔ کشتواڑ کے چھاترو علاقے میں برف باری کے باوجود آپریشن میں تیزی برقرار ہے، اور سکیورٹی فورسز اس بات پر پُرعزم ہیں کہ خطے کو دہشت گردی کے خطرے سے مکمل طور پر پاک کر کے عام لوگوں میں اعتماد کی فضا بحال کی جائے۔










