جموں: جموں کشمیر کے مختلف اضلاع میں سیکورٹی فورسز نے پیر کے روز انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں مزید شدت پیدا کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کئے جن کے دوران متعدد حساس علاقوں کا محاصرہ کیا گیا اور مشکوک نقل و حرکت کی اطلاعات پر کارروائی کی گئی۔
حکام کے مطابق بری برہمنا علاقے میں دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا، جب کہ کشتواڑ کے مشکل اور برف سے ڈھکے چھاترو بیلٹ میں دہشت گردوں کی تلاش ۱۶ویں روز بھی جاری رہی۔
ذرائع کے مطابق سانبہ ضلع کے بری برہمنا علاقے میں صبح تقریباً ساڑھے دس بجے آرمی کی کوئیک ری ایکشن ٹیم نے دو افراد کو اُس وقت روک کر پوچھ گچھ کی جب وہ آرمی کیمپ کے نزدیک مشکوک انداز میں گھومتے پائے گئے۔ ابتدائی چھان بین کے بعد دونوں افراد کو مزید تفتیش کے لیے مقامی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
حکام نے یہ نہیں بتایا کہ دونوں افراد کا دہشت گردی سے کوئی براہِ راست تعلق ثابت ہوا ہے یا نہیں، تاہم ان سے حاصل معلومات پر مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔
ادھر ادھم پور ضلع کے رامنگر سیکٹر میں اتوار کی شب مشکوک نقل و حرکت کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد فورسز نے فوری طور پر وسیع سرچ آپریشن شروع کیا۔ اس آپریشن میں جافر، مارٹا، کلتیان، سوہان، خیل اور چوڑ موٹو تک کئی دیہاتوں کو شامل کیا گیا، جبکہ اُجھ ندی کے اطراف کے علاقے بھی کھنگالے گئے۔
فورسز نے رات بھر تلاشی کی تاہم کوئی مشکوک شخص نہیں ملا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی ممکنہ نقل و حرکت کے تناظر میں ایسے آپریشن حفاظتی نقطہ نظر سے ضروری ہیں۔
راجوری کے کالاس ٹاپ اور ادھم پور کے رام گڑھ جنگلات میں بھی دہشت گردوں کے ممکنہ گزرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ فورسز نے ان دونوں مقامات پر بھی سرچ ٹیموں کو تعینات کر دیا ہے، جبکہ اضافی اہلکاروں کو حساس راستوں پر گشت کے لیے روانہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح پونچھ، ڈوڈہ، کٹھوعہ اور ریاسی کے دور دراز پہاڑی علاقوں میں بھی تلاشی کارروائیاں جاری ہیں تاکہ دہشت گردوں کے ممکنہ ٹھکانوں کو بے نقاب کیا جا سکے۔
ادھر کشتواڑ کا چھاترو بیلٹ، جہاں گزشتہ دو ہفتوں میں چار جھڑپیں ہو چکی ہیں، مسلسل سیکورٹی فورسز کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
یہ سرچ آپریشن۱۸جنوری کو سونار گاؤں میں ہونے والی ابتدائی جھڑپ کے بعد شروع ہوا تھا، جس میں ایک پیرا ٹروپر شہید اور سات جوان زخمی ہوئے تھے۔ اس کے بعد۲۲جنوری اور۲۶جنوری کو بھی نزدیکی علاقوں میں دہشت گردوں سے دوبارہ آمنا سامنا ہوا۔۳۱جنوری کو ڈولگام گاؤں میں دہشت گرد فورسز کے محاصرے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے جس کے بعد آپریشن مزید پھیلایا گیا۔
حکام کے مطابق اتوار کو تازہ برف باری کے باعث کارروائی میں کچھ رکاوٹ پیدا ہوئی، تاہم پیر کو گھیرابندی اور تلاشی دوبارہ شروع کر دی گئی۔ فوج، پولیس اور سی آر پی ایف کی مشترکہ ٹیمیں گھٹنوں تک برف میں چل کر پہاڑی جنگلات کی تلاشی لے رہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ گزشتہ۴۸ گھنٹوں میں دہشت گردوں کے ساتھ کوئی براہِ راست رابطہ نہیں ہوا ہے، لیکن انٹیلی جنس ان پٹس کی بنیاد پر فورسز نے آپریشنز جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام نے مزید کہا کہ مشکل موسمی حالات کے باوجود کارروائیاں اُس وقت تک جاری رہیں گی جب تک علاقے کو دہشت گردی کے خطرے سے مکمل طور پر پاک قرار نہیں دیا جاتا۔










