سرینگر: جموں کشمیر کے رہنماؤں نے جمعہ کے روز اتراکھنڈ میں ایک کم عمر کشمیری شال فروش پر مبینہ ہجوم کے حملے کی مذمت کی، جس میں متاثرہ نوجوان کو متعدد فریکچر اور سنگین چوٹیں آئیں۔ متعدد رہنماؤں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق، متاثرہ لڑکا کشمیر سے تعلق رکھنے والا ایک کم عمر شال فروش تھا جو شالیں فروخت کرنے کے لیے اتراکھنڈ گیا تھا، جہاں مبینہ طور پر اسے لوگوں کے ایک گروپ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس واقعے کے بعد سیاسی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا، مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے اسے تشویشناک اور بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی عکاسی قرار دیا۔
آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے جموں و کشمیر کانگریس کے صدر طارق حمید قرہ نے اس واقعے کو نہایت تشویشناک قرار دیا۔انہوں نے کہا’’یہ معاملہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ دائیں بازو کے عناصر کی جانب سے ایک منظم مہم ہے۔ یہ دو یا تین ریاستوں تک محدود نہیں۔ اگر آپ وقت کے ساتھ ایسے واقعات کا جائزہ لیں تو یہ پورے ملک میں دائیں بازو کی قوتوں کی پیدا کردہ پالیسیوں اور ماحول کے تحت ہو رہے ہیں‘‘۔
قرہ نے مزید الزام عائد کیا کہ بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں ایسے واقعات زیادہ سامنے آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا’’وہ شاید سمجھتے ہوں کہ اس طرح کے اقدامات سے ان کا مذہب فروغ پائے گا یا قوم پرستی کو تقویت ملے گی، لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جہاں جہاں بی جے پی کی حکومتیں ہیں، وہاں یہ واقعات زیادہ کثرت سے ہو رہے ہیں‘‘۔
آزاد رکنِ اسمبلی شبیر احمد کلے نے بھی مبینہ حملے کی مذمت کی اور اتراکھنڈ حکومت سے فیصلہ کن اقدام کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا’’میں اس واقعے کی سخت مذمت کرتا ہوں اور اتراکھنڈ حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ اسے سنجیدگی سے لے، اس کی تکرار روکے، ذمہ داروں کی شناخت کر کے انہیں گرفتار کرے اور شرپسند عناصر کے خلاف سخت اور مؤثر قانونی کارروائی کو یقینی بنائے‘‘۔
کلے نے ایسے واقعات کے وسیع تر سماجی اثرات پر بھی روشنی ڈالی۔’’یہ حقیقت ہے کہ نفرت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے۔ اتراکھنڈ ایک ہمسایہ ریاست ہے، اور میں عوام سے چاہے وہ کشمیر میں ہوں یا ملک کے دیگر حصوں میں اپیل کرتا ہوں کہ آئندہ ایسے اقدامات سے گریز کریں‘‘۔
کانگریس کے ترجمان سریندر راجپوت نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں کشمیری نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا’’جہاں جہاں بی جے پی اقتدار میں ہے، کشمیری نوجوانوں کو مارا پیٹا جا رہا ہے، گالیاں دی جا رہی ہیں اور ان سے نعرے لگوائے جا رہے ہیں‘ چاہے وہ لکھنؤ ہو یا اتراکھنڈ۔ اڈیشہ میں لوگوں کو بنگلہ دیشی قرار دے کر قتل کیا گیا۔ ایسے اقدامات ہندو،مسلم تقسیم کو بار بار ابھار کر شہریوں کے اتحاد کو چیلنج کرتے ہیں‘‘۔
راجپوت نے مزید سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا’’ایسے حملوں میں ملوث افراد کو جیل میں ڈالا جانا چاہیے، اور جو حکومتیں اس تشدد کو روکنے میں ناکام رہتی ہیں، انہیں جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے‘‘۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ترجمان زوہیب یوسف نے ان معاشی حالات کی نشاندہی کی جو کشمیری نوجوانوں کو ملک بھر میں سفر پر مجبور کرتے ہیں۔انہوں نے کہا’کشمیر میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری کے باعث کشمیری شال فروش پورے ملک میں جاتے ہیں۔ آج جب کوئی شال فروش کسی دوسری ریاست میں جاتا ہے تو اس سے ’وندے ماترم‘یا’جے شری رام‘جیسے نعرے لگانے کو کہا جاتا ہے۔ مبینہ طور پر اتراکھنڈ میں بھی یہی ہوا، جہاں ایک۱۷سالہ لڑکے کو مارا پیٹا گیا‘‘۔
یوسف نے ان واقعات کے معمول بن جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا’’ایسا لگتا ہے کہ ایک خطرناک ذہنیت فروغ پا رہی ہے، جہاں کسی مسلمان کو مارنا، اس کی ویڈیو بنانا اور اس سے نعرے لگوانا سیاسی شناخت حاصل کرنے کا ایک آسان راستہ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ نہایت افسوسناک ہے اور اسے ہمارے ملک کی پہچان نہیں بننے دیا جانا چاہیے۔ جنہیں کبھی ‘حاشیہ بردار عناصر’ کہا جاتا تھا، انہیں اب مرکزی دھارے میں دھکیل دیا گیا ہے‘‘۔
نیشنل کانفرنس کے ترجمان تنویر صادق نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے۔انہوں نے کہا’’جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ نے اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ سے بات کی ہے۔ اس واقعے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ہم سخت کارروائی چاہتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی دوسری ریاست کا سفر کرتا ہے تو اس ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کی حفاظت کو یقینی بنائے، بالکل اسی طرح جیسے ہم اپنے یہاں آنے والوں کا خیال رکھتے ہیں‘‘۔
صادق نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیا۔
تنقید کا جواب دیتے ہوئے بی جے پی کے ترجمان پرتل شاہ دیو نے کہا کہ معاملہ سنگین ہے اور زیرِ تفتیش ہے۔انہوں نے کہا’’یہ ایک نہایت تشویشناک معاملہ ہے۔ اتراکھنڈ حکومت اس بات کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے کہ کیا ہوا اور کون ذمہ دار تھا۔ کسی کے خلاف بھی ایسے واقعات ناقابلِ قبول ہیں، اور قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا‘‘۔
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے جمعرات کو مداخلت کے بعد حملے کے مقدمے میں مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔










