سرینگر: وادی کشمیر میں تازہ برفباری سے جہاں مناظر کو مزید دلکش و دلپذیر بنا دیا ہے وہیں سیاحتی مقامات پر سیاحوں کے غیر معمولی رش سے شعبہ سیاحت سے وابستہ لوگوں کے چہروں پر خوشی و شادمانی کے آثار نمودار ہوئے ہیں۔
شمالی کشمیر میں واقع سفید چادر میں مکمل طور پر ڈھکے مشہور سیاحتی مقام گلمرگ اس وقت سیاحوں کی رش بام عروج پر نہے، ہوٹلوں میں۱۰۰فیصد بکنگ ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ وسطی کشمیر میں واقع سونہ مرگ میں بھی سیاحوں کی بھیڑ ہے اور یہاں۸۰فیصد تک بکنگ درج کی گئی ہے۔
سیاحوں کے مطابق گلمرگ کی اسکیئنگ، برف سے ڈھکے پہاڑ اور گونڈولا رائیڈ ایسی دلکشی رکھتے ہیں جو عالمی سطح کے کئی مقامات سے بڑھ کر ہیں۔
ممبئی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سیاح شانتی دیوی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مختلف ممالک اور شہروں میں اسکیئنگ کر چکی ہیں لیکن گلمرگ جیسا تجربہ کہیں نہیں ملا۔ ان کے مطابق گلمرگ کا جادو ہی الگ ہے، یہاں کی برف، یہاں کا موسم اور یہاں کے لوگ، سب کچھ دل جیت لینے والا ہے۔
اسی طرح پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک سیاحتی گروپ نے اپنی چھ روزہ اسکیئنگ مہم مکمل کرنے کے بعد گلمرگ کی خوبصورتی اور میزبانی کو بے مثال قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا’’ہم نے دنیا کے کئی مقامات دیکھے ہیں، مگر گلمرگ جیسی دلکشی کہیں نہیں دیکھی‘‘۔
پہلی بار کشمیر آنے والی سیاح رابیہ مرزا نے مسکراتے ہوئے کہ’’یہ غیر متوقع خوشی کا سفر تھا۔ یہاں کی گونڈولا رائیڈ اور اسکیئنگ نے ہمیں حیران کر دیا۔ لوگ بھی بے حد دوستانہ اور مددگار ہیں‘‘۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تازہ برفباری کے بعد سیاحوں کی آمد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث تمام ہوٹل مکمل طور پر بھر چکے ہیں۔
متعلقہ حکام نے ملک بھر کے سیاحوں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ گلمرگ میں اس موسم کا لطف وہی سمجھ سکتا ہے جو یہاں کی برفیلی ڈھلوانوں پر اترے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہر ممکن سہولیات فراہم کی ہیں، لیکن سیاحوں سے بھی گزارش ہے کہ صرف مخصوص اور محفوظ اسکیئنگ ٹریکس کا استعمال کریں۔
دوسری طرف سونہ مرگ میں بھی برفباری نے سیاحتی سرگرمیوں میں جان ڈال دی ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یکم سے۲۷جنوری تک۸۷ہزار۶۹۳سیاحوں نے اس دلکش مقام کا رخ کیا، جن میں۷۷ہزار سے زائد ملکی‘۱۲۲۵غیر ملکی اور۹ہزار سے زیادہ مقامی سیاح شامل ہیں۔










