سرینگر: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اتراکھنڈ میں ایک نوجوان کشمیری شال فروش پر حملے کے واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے فوری اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں ذمہ داری کا تعین اور جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے اُن افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی جو ریاست سے باہر مقیم ہیں۔
اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ‘ پشکر سنگھ دھامی سے فون پر بات کی اور واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنے پر زور دیا۔
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا’’وزیر اعلیٰ نے اتراکھنڈ کے معزز وزیر اعلیٰ سے اتراکھنڈ میں ایک نوجوان کشمیری شال فروش پر حملے کے واقعے کے حوالے سے بات کی اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی اپیل کی۔دھامی نے یقین دہانی کرائی کہ معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے سمیت سخت کارروائی کی جائے گی اور جموں و کشمیر کے رہائشیوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا‘‘۔
اس کے بعد اتراکھنڈ پولیس نے معاملے میں فوری کارروائی کی۔ ایک سرکاری اپ ڈیٹ میں پولیس نے بتایا کہ پولیس اسٹیشن وکاس نگر میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے، جس میں ملزم ‘سنجے یادو اور ایک دیگر شخص کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اپ ڈیٹ میں مزید کہا گیا’’ملزم سنجے یادو کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ضروری قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے، جس کے بعد اسے جیل بھیجا جائے گا‘‘۔
اس سے پہلے وزیر اعلیٰ نے جمعرات کو ملک کے مختلف حصوں میں جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد پر ہونے والے حالیہ حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات ناقابلِ قبول ہیں اور انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں پیش آئے حملوں کا سلسلہ، جن میں ہماچل پردیش سے رپورٹ ہونے والے واقعات اور دیگر مقامات پر پیش آنے والا تازہ واقعہ شامل ہے، کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ ایک طرف جموں و کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ حصہ قرار دیا جائے اور دوسری طرف کشمیر کے لوگوں کو دیگر ریاستوں میں اپنی جان کے خوف میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا جائے، یہ ایک واضح تضاد ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کی حکومت جہاں کہیں بھی ضرورت پڑی، مداخلت کرے گی اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گی کہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
عمرعبداللہ نے امید ظاہر کی کہ وزارتِ داخلہ، حکومتِ ہند، دیگر ریاستوں کو بھی اس معاملے پر حساس بنائے گی، تاکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی سلامتی اور وقار کو یقینی بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ۱۸سالہ کشمیری نوجوان، جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ شالیں فروخت کر رہا تھا، پر چند دکانداروں نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں اسے سر پر شدید چوٹیں اور فریکچر آئے۔










