لندن؍۲۷جنوری//
ایران سے آنے والی تصدیق شدہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ہسپتال میں لاشوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، مظاہرین نگرانی والے کیمرے غیر فعال کرنے کی کوش کر رہے ہیں جبکہ عمارتوں پر سنائپرز کو تعینات کیا گیا ہے۔
ایران میں دسمبر کے مہینے میں شروع ہونے والے احتجاج کے بعد سے بی بی سی ویریفائی ان مظاہروں کا جائزہ لے رہا ہے تاہم ایرانی حکام کی جانب سے انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے مظاہرین کے خلاف ہونے والے مہلک کریک ڈاؤن کو دستاویز کرنا انتہائی مشکل ہے۔
امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایجنسی ’ہرانا‘ کے مطابق اب تک تقریباً چھ ہزار افراد اس احتجاج کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے 5633 مظاہرین تھے۔
’ہرانا‘ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ انٹرنیٹ بند ہونے کے باوجود موصول ہونے والی اطلاعات کی روشنی میں مزید 17,000 مبینہ اموات کی تحقیقات کر رہا ہے۔
ناروے میں قائم ’ایران ہیومن رائٹس‘ (آئی ایچ آر) نے خبردار کیا ہے کہ کل اموات 25 ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہیں۔
ایرانی حکام نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ان مظاہروں میں 3,100 سے زیادہ لوگ مارے گئے لیکن مرنے والوں میں زیادہ تر سکیورٹی اہلکار یا عام لوگ تھے جو ’مشتعل مظاہرین‘ کا نشانہ بنے۔
ایران سے سامنے آنے والی تازہ ترین ویڈیوز کو 8 اور 9 جنوری کو فلمایا گیا تھا، جب سابق ولی عہد رضا پہلوی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کی کال کے بعد ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے۔
خیال ہے کہ یہ مظاہرین کے لیے اب تک کی سب سے مہلک راتیں تھیں اور ان نئی تصدیق شدہ ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی سکیورٹی فورسز مظاہرین کے خلاف کس طرح پرتشدد کارروائیاں کر رہی ہیں۔
بی بی سی ویریفائی اور بی بی سی فارسی کے تجزیہ کردہ متعدد کلپس میں مشرقی تہران کے ’تہران پارس ہسپتال‘ کے مردہ خانے کے اندر لاشوں کا ڈھیر دیکھا گیا ہے۔ ہم نے ہسپتال کے اندرونی حصے کو عمارت کی دیگر عوامی طور پر دستیاب تصاویر اور ویڈیوز سے ملا کر اس کے محل وقوع کی تصدیق کی اور صرف ایک ویڈیو میں کم از کم 31 لاشیں گنیں۔
ایک اور کلپ میں دیکھا گیا ہے کہ ہسپتال کے داخلی دروازے کے باہر زمین پر سات باڈی بیگ رکھے ہوئے ہیں۔ایک اور ویڈیو میں سینکڑوں لوگ مغربی تہران کی ایک شاہراہ پر احتجاج کرتے ہوئے نظر آئے، اس ویڈیو میں فائرنگ کی آواز کے بعد مظاہرین چیخنا شروع کر دیتے ہیں۔
مظاہرین کو سی سی ٹی وی کیمروں کو غیر فعال کر کے ایران کے نگرانی کے بنیادی ڈھانچے سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔ ہم نے جس فوٹیج کی تصدیق کی اس میں دیکھا گیا ہے کہ دارالحکومت میں ایک شخص نگرانی والے ایک کیمرے کو غیر فعال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیمرہ خراب ہونے پر مظاہرین کا ایک بہت بڑا ہجوم خوشی کا اظہار کرتے سنا جا سکتا ہے۔
جنوب مشرقی شہر کرمان میں فوجی وردی میں ملبوس کئی مسلح افراد کو سڑک پر چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو اپنے ہتھیاروں سے مسلسل فائرنگ کر رہے ہیں، حالانکہ یہ واضح نہیں کہ وہ کس پر گولی چلا رہے ہیں۔
سڑک کے بیچوں بیچ آگ جل رہی ہے جبکہ پس منظر میں مظاہرین کے نعرے لگانے کی آواز سنی جا سکتی ہے۔
شمال مشرقی شہر مشہد کی ایک تصدیق شدہ ویڈیو میں سیاہ لباس میں ملبوس دو افراد کو دن کی روشنی میں ایک عمارت کی چھت پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک آدمی بڑی رائفل کے پاس کھڑا ہے جسے دیوار کے ساتھ لگایا گیا ہے اور وہ فون پر بات کر رہا ہے۔ دوسرا آدمی تمباکو نوشی کرتے ہوئے فرش پر لیٹ گیا۔










