سرینگر: یوم جمہوریہ کے پیش نظر جموں و کشمیر میں بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر سیکورٹی کے انتہائی سخت اور جامع انتظامات کیے گئے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ پاکستان سے ملنے والی تمام سرحدوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور کسی بھی قسم کی دراندازی یا تخریبی سرگرمی کو ناکام بنانے کے لیے زمینی و فضائی نگرانی بڑھا دی گئی ہے ۔
ذرائع کے مطابق یوم جمہوریہ کے دوران دشمن عناصر کی جانب سے ممکنہ مداخلت کے خطرات کے پیش نظر بی ایس ایف، فوج اور جموں و کشمیر پولیس نے مشترکہ طور پر ایک وسیع سیکورٹی گرڈ قائم کیا ہے ۔
بین الاقوامی سرحد سے متصل علاقوں آر ایس پورہ، سچیت گڑھ، ارنیا،ہیرا نگر، کانا چیک، پالانوالہ، پونچھ اور راجوری میں شبانہ گشت، پٹرولنگ اور جدید نگرانی کے آلات کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے ۔
معلوم ہوا ہے کہ کشمیر کے سرحدی علاقوں میں بھی فوج اور بی ایس ایف کا گشت بڑھا دیا گیا ہے تاکہ سماج دشمن عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنایا جاسکے ۔
ایک سینئر سیکورٹی افسر نے بتایا کہ سرحدوں کو سیل کرنے کا مقصد کسی بھی مشتبہ سرگرمی، ہتھیاروں کی اسمگلنگ، ڈرون سرگرمی یا مشکوک نقل و حرکت کو بروقت روکنا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے برسوں میں پاکستان کی جانب سے ڈرون کے ذریعے اسلحہ، منشیات اور دھماکہ خیز مواد ارسال کرنے کی متعدد کوششیں ہوئی ہیں، اسی لیے اس بار اینٹی ڈرون اسکواڈز کو بھی حساس علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے ۔
حکام نے بتایا کہ یوم جمہوریہ کے مرکزی تقریب گراؤنڈز، پریڈ مقامات، اسکولوں اور سرکاری دفاتر میں تین درجن سے زائد سیکورٹی ناکے قائم کیے گئے ہیں۔عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمی یا مشکوک افراد کی اطلاع فوراً متعلقہ پولیس اسٹیشن یا کنٹرول روم کو دیں۔
سکیورٹی حکام نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ سرحد مکمل طور پر محفوظ ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لئے فوج اور بی ایس ایف پوری طرح مستعد ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یوم جمہوریہ کے دوران وادی سے جموں تک تمام تقریبات پر خصوصی خفیہ نظر رکھی جا رہی ہے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سخت انتظامات کا مقصد نہ صرف ممکنہ دراندازی کو روکنا ہے بلکہ عوام میں تحفظ اور اعتماد کا ماحول قائم رکھنا بھی ہے تاکہ قومی تہوار پر کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے ۔










