ماسکو، 22 جنوری (یو این آئی)
ولادیمیر پوتن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے انہیں غزہ کے لیے امریکی تجویز کردہ بورڈ آف پیس امن بورڈ) میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے ۔ یہ ایک نیا بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا مقصد اسرائیل-فلسطین مسئلے سمیت عالمی تنازعات کو حل کرنا ہے ۔
آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق، پوتن نے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس اقدام میں تعاون کرنے کی آمادگی ظاہر کی اور تجویز دی کہ "فلسطینی محصور علاقے کی بحالی میں مدد کے لیے امریکہ میں منجمد روسی اثاثوں میں سے 1 ارب ڈالر اس ادارے کو عطیہ کر دیے جائیں۔”
انہوں نے یہ بات بدھ کو روسی سلامتی کونسل سے خطاب کے دوران کہی ۔ آر ٹی کے مطابق، پوتن نے کہا کہ ٹرمپ کی پیشکش کا مطالعہ کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہوگا، کیونکہ اس سلسلے میں روس کے اسٹریٹجک شراکت داروں سے مشاورت ضروری ہے ۔
روسی صدر نے ماسکو کے "فلسطینی عوام کے ساتھ خصوصی تعلقات” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس اس تنظیم کے لیے 1 ارب ڈالر "ابھی فراہم کر سکتا ہے ، اس سے پہلے کہ ہم یہ فیصلہ کریں کہ آیا ہم بورڈ آف پیس کے کام میں حصہ لیں گے یا نہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ رقم "سابقہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے منجمد کیے گئے روسی اثاثوں” سے لی جا سکتی ہے ۔ آر ٹی نے پوتن کے حوالے سے بتایا کہ ماسکو نے "ہمیشہ بین الاقوامی استحکام کو مضبوط بنانے کی کوششوں کی حمایت کی ہے اور کرتا رہے گا۔”
یہ بورڈ اسرائیل-حماس جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا حصہ ہے اور توقع ہے کہ یہ عارضی طور پر غزہ کے نظم و نسق کی نگرانی اور اس کی تعمیرِ نو کا انتظام سنبھالے گا۔ واشنگٹن نے دنیا بھر کے مختلف رہنمائوں کو اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے ۔ پیر کے روز، صدر ایمانوئل میکرون کے اس بورڈ میں شامل ہونے سے انکار کے بعد، ٹرمپ نے فرانسیسی شراب پر 200 فیصد ٹیرف (محصولات) لگانے کی دھمکی دی تھی۔








