ڈرائیور گاڑی پرقابو نہ پاسکا ‘۲۰۰ فٹ کھائی میں جا گری ‘ ۴ کی موقع پر ہی موت ‘ ۶ نے ہسپتال میں دم توڑ دیا
بھدرواہ/جموں: جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں انسدادِ دہشت گردی آپریشن کے لیے جوانوں کو لے جانے والی بھارتی فوج کی ایک بکتر بند گاڑی جمعرات کو گہری کھائی میں جا گری، جس کے نتیجے میں۱۰فوجی اہلکار جاں بحق اور۱۱دیگر زخمی ہو گئے۔
حکام نے بتایا کہ حادثہ دوپہر کے قریب بھدرواہ،چمبا بین الریاستی سڑک پر۹ہزار فٹ بلند کھنی ٹاپ کے مقام پر پیش آیا، جہاں بلٹ پروف گاڑی کیسپر کا ڈرائیور گاڑی پر قابو کھو بیٹھا اور گاڑی تقریباً۲۰۰فٹ گہری کھائی میں جا گری۔
کیسپر‘مائن ریزسٹنٹ ایمبش پروٹیکٹڈ گاڑی ہے، جسے بارودی سرنگوں یا آئی ای ڈی کے شدید خطرات والے علاقوں میں فوجیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
فوج کے جموں میں قائم وائٹ نائٹ کور نے اس واقعے کو’افسوسناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خراب موسم میں خطرناک راستے سے گزرتے وقت گاڑی سڑک سے پھسل گئی۔
حکام کے مطابق فوج اور پولیس کی مشترکہ ریسکیو کارروائی کے دوران چار فوجیوں کی لاشیں نکالی گئیں، جبکہ۱۷زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ ریسکیو ٹیم نے بتایا کہ حادثے میں گاڑی بری طرح تباہ ہو چکی تھی۔بعد ازاں مزید چھ زخمی فوجی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
زخمیوں میں سے۱۰ کو خصوصی علاج کے لیے ادھم پور کمانڈ اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ ایک اور فوجی بھدرواہ سب ڈسٹرکٹ اسپتال میں زیرِ نگرانی ہے اور اس کی حالت’مستحکم‘ بتائی جا رہی ہے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بھدرواہ، سمت کمار بھٹیال نے پی ٹی آئی کو بتایا’’اس افسوسناک حادثے میں ہم نے۱۰فوجی اہلکار کھو دیے ہیں جبکہ ۱۱دیگر زخمی ہوئے ہیں‘‘۔
وائٹ نائٹ کور نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا’’ایک افسوسناک واقعے میں، آپریشن کے لیے جانے والی فوجی گاڑی خراب موسم میں خطرناک راستے سے گزرتے ہوئے سڑک سے پھسل گئی۔ اس میں متعدد جانی نقصان ہوا ہے، جن میں اموات بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو مزید علاج کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے‘‘۔
وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
وزیر دفاع نے ایکس پر لکھا’’ڈوڈہ میں پیش آئے المناک سڑک حادثے میں بھارتی فوج کے۱۰ بہادر جوانوں کی شہادت پر دلی دکھ ہوا ہے۔ غمزدہ خاندانوں کے ساتھ میری گہری تعزیت‘‘۔
راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ زخمی فوجیوں کو طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور بہترین ممکنہ علاج کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے فوری ریسکیو اور انخلا کی کارروائیوں کی ستائش کی، جاں بحق فوجیوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ایکس پر کہا’’ہم اپنے بہادر فوجیوں کی شاندار خدمات اور عظیم قربانی کو ہمیشہ یاد رکھیں گے‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’اس گہرے غم کے لمحے میں پوری قوم غمزدہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی اور حمایت میں کھڑی ہے‘‘ اور بتایا کہ انہوں نے اعلیٰ حکام کو بہترین علاج کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سڑکوں کی حفاظت کے اقدامات کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔انہوں نے کہا’’غمزدہ خاندانوں اور عزیزوں سے میری دلی تعزیت۔ قوم گہرے رنج کے ساتھ متحد ہے اور ہماری دعائیں زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے ہیں۔ماضی میں بھی ایسے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ایسے دل دہلا دینے والے نقصانات سے بچنے کے لیے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، دشوار گزار علاقوں میں نقل و حرکت بہتر بنانے اور سڑکوں کی حفاظت کے اقدامات کی فوری ضرورت ہے‘‘۔
ڈیموکریٹک پروگریسیو آزاد پارٹی کے سربراہ غلام نبی آزاد نے کہا’’غمزدہ خاندانوں سے میری گہری تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہوں‘‘۔
فوج کے ناردرن کمانڈ نے ایکس پر کہا کہ جنرل آفیسر کمانڈنگ اِن چیف لیفٹینننٹ جنرل پرتیک شرما اور کمانڈ کے تمام رینکس جاں بحق جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور اس افسوسناک حادثے میں جان گنوانے والے فوجیوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا’’ناردرن کمانڈ کا پورا خاندان غمزدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہے اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کرتا ہے۔‘‘










