سرینگر: پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون نے بدھ کے روز جموں کو الگ ریاست بنانے کے بی جے پی کے مطالبے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے لیے دعا گو ہیں۔
وادی سے ہندواڑہ کے رکنِ اسمبلی سجاد لون نے ایک بیان میں کہا’’میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ یہ علیحدگی ممکن ہو جائے۔ یہ حقیقی آزادی ہوگی۔ لیکن ہوشیار رہیں، بڑے مگرمچھ کل نئی کہانیاں گھڑ لیں گے۔ اس کے باوجود، تمام تر حالات کے باوجود، ہم امید رکھتے ہیں کہ یہ ہو کر رہے‘‘۔
سجاد لون بی جے پی کے بعض رہنماؤں‘جن میں سابق وزیر شام لال شرما بھی شامل ہیں، کی جانب سے جموں خطے کو الگ ریاست بنانے کے مطالبے پر تبصرہ کر رہے تھے۔
پیپلز کانفرنس کے سربراہ نے کہا’’یہ کشمیریوں کے لیے ایک نادر اور سنہری موقع ہے۔ کھوکھلے نعروں سے گمراہ نہ ہوں‘‘۔
نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کی جانب سے جموں و کشمیر کی مسلسل وحدت پر اصرار کو چیلنج کرتے ہوئے لون نے سوال اٹھایا کہ اس’نام نہاد وحدت‘ کا بوجھ آخر کون اٹھائے گا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بے روزگار نوجوان روزانہ اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔
لون نے کہا’’بھارت کی آبادی ڈیڑھ ارب ہے۔ ہم (کشمیری) بمشکل سٹھ یا ستر لاکھ ہیں۔ کیا ہم اپنی حیثیت سے کہیں زیادہ بات نہیں کر رہے؟ کیا ہم نے کبھی سیکولرازم کی حفاظت کا کوئی معاہدہ سائن کیا تھا؟‘‘
ہندواڑہ کے ممبر اسمبلی نے کہا کہ اگرچہ کشمیری رہنما معمول کے مطابق سیکولرازم کے نام پر اخلاقی برتری کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن ملک بھر میں کشمیری طلبہ کو مسلسل مارا پیٹا جاتا ہے، ذلیل کیا جاتا ہے اور نشانہ بنایا جاتا ہے۔
پیپلز کانفرنس کے صدر نے کہا کہ وادی کے عوام نے کبھی اس ’غیر متناسب بوجھ‘ کو اٹھانے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے دیگر حصوں میں کشمیری طلبہ اور شال فروشوں پر معمول کی بنیاد پر ہونے والے حملے اس منافقت کو بے نقاب کرتے ہیں جو جموں اور کشمیر کو ایک ساتھ رکھنے کے جواز کے طور پر پیش کی جانے والی سیکولر وحدت کے بلند بانگ دعوؤں کے پیچھے چھپی ہوئی ہے۔
لون نے کہا’’فاروق صاحب ہمارے بزرگ ہیں؛ میں ان کا بے حد احترام کرتا ہوں اور وہ مجھے بہت عزیز ہیں۔ لیکن سیاسی طور پر میں ان کا مکمل مخالف ہوں‘‘
سابق وزیر نے کہا کہ ریزرویشن پالیسیوں کے ذریعے منظم انداز میں کشمیر سے روزگار کے مواقع چھین کر انہیں جموں کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے سوال کیا’’یہ تمام نوکریاں جو ریزرویشن کے ذریعے جموں کی طرف منتقل کی جا رہی ہیںاس کی قیمت کون ادا کرے گا؟ اس نقصان کو کون برداشت کرے گا‘‘
معاشی پہلو پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطوں کے درمیان شدید عدم توازن موجود ہے۔ جموں کی معیشت کشمیر اور کشمیری محنت پر قائم ہے، اس کے باوجود وہ تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے، اور تقریباً ہر بڑا ترقیاتی منصوبہ کشمیر کی قیمت پر جموں کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔
لون نے کہا کہ کشمیر اور جموں کی علیحدگی دشمنی کا باعث نہیں بننی چاہیے۔انہوں نے کہا’’کیا مہاراشٹر کے لوگ ہمارے بھائی نہیں ہیں؟ کیا دہلی یا گجرات کے لوگ ہمارے بھائی نہیں ہیں؟ ہزاروں لوگ یہاں آتے ہیں اور ان کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ اسی جذبے کے ساتھ، کل بھی جموں کے لوگ ہمارے بھائی رہیں گے۔ ان شاء اللہ، علیحدگی کے بعد بھی بھائی چارہ قائم رہے گا۔‘‘










