سری نگر: تمام رکاوٹیں توڑتے ہوئے‘۲۶سالہ سمرن بالا، جو سینٹرل ریزرو پولیس فورس(سی آر پی ایف)میں اسسٹنٹ کمانڈنٹ ہیں‘۷۶ویں یومِ جمہوریہ کی پریڈ میں آل میل سی آر پی ایف یونٹ کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون افسر بن کر تاریخ رقم کرنے جا رہی ہیں۔
جموں و کشمیر کے نووشہرہ کی رہائشی سمرن بالا کا تعلق ایسے گاؤں سے ہے جو پاکستان کی مسلسل گولہ باری سے متاثر رہا ہے۔ گولوں اور پاکستانی فائرنگ کے سائے میں گزرا بچپن آج ناقابلِ شکست عزم کی ایک مثال بن چکا ہے۔
یہ نوجوان افسر۱۴۰سے زائد مرد اہلکاروں پر مشتمل دستے کی قیادت کرتے ہوئے رسمی مارچ کی کمان سنبھالنے والی پہلی خاتون افسر بننے جا رہی ہیں، جو ملک کی سب سے بڑی نیم فوجی فورس اور بھارت بھر کی وردی پوش خواتین کے لیے ایک نادر اور طاقتور سنگِ میل ہے۔
این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے سمرن بالا نے کہا کہ اس لمحے کو بیان کرنے کے لیے ان کے پاس الفاظ نہیں ہیں۔
ان کاکہنا ہے ’’یہ ایک ایسا احساس ہے جس کی کوئی مثال نہیں۔ میرے سامنے پریڈ کا منظر، ایوانِ ہند کی شان و شوکت ملک کے سب سے بڑے دن پر اس فورس کی قیادت کرنا ایک اعزاز بھی ہے اور بڑی ذمہ داری بھی۔ اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا‘‘۔
جموں سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ فوجی افسر کیپٹن انیل گور نے بھی اس کامیابی پر اظہارِ خیال کیا۔
گور نے کہا’’یہ ایک علامتی تبدیلی ہوگی، جہاں رکاوٹیں ٹوٹیں گی اور وردی پوش خواتین کے لیے اپنے مستقبل خود تراشنے کے دروازے کھلیں گے‘‘۔
راجوری اور پونچھ کے سرحدی علاقوں میں سمرن کی اس کامیابی نے نئی امنگیں جگا دی ہیں۔راجوری کی ایک نوجوان لڑکی گیتا رانی نے کہا’’بالکل سمرن کی طرح ہم بھی وردی پہننا اور ماں بھارت کی خدمت کرنا چاہتے ہیں‘‘۔یہ جذبات وہاں کی کئی لڑکیوں کی آواز بن چکے ہیں۔
سمرن بالا اپنے ضلع سے سی آر پی ایف میں افسر بننے والی پہلی خاتون بھی ہیں۔
انہوں نے یو پی ایس سی سی اے پی ایف کا امتحان اپنی پہلی ہی کوشش میں کامیابی سے پاس کیا اور کالج کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تیاری کرتے ہوئے۱۵۱ امیدواروں میں۸۲ویں آل انڈیا رینک حاصل کی۔
مئی۲۰۲۳میں ہونے والے اس امتحان میں جموں و کشمیر سے کامیاب ہونے والی وہ واحد خاتون امیدوار تھیں۔










