دمشق، 20 جنوری (یو این آئی) شمال مشرقی صوبہ حسکہ کے الشدادی جیل سے وائی پی جی دہشت گرد گروہ کی طرف سے 120 قیدیوں کو رہا کیے جانے کے بعد شامی حکام نے 81 داعش قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے ۔
شامی امور داخلہ کے مطابق ایک بیان میں امور داخلہ نے کہا کہ شامی فوجی یونٹس اور وزارتِ داخلہ کی خصوصی آپریشن فورسز نے الشدادی شہر کی جیل سے قیدیوں کی رہائی کے بعد تلاشی کی مہم شروع کی۔
وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران 81 داعش کے ارکان گرفتار کیے گئے اور باقی قیدیوں کی تلاش اور گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
وزارتِ داخلہ کے پہلے بیانات میں کہا گیا تھا کہ الشدادی جیل سے قیدیوں کی رہائی کی ذمہ داری وائی پی جی دہشت گرد گروہ پر عائد ہوتی ہے ۔
یہ حفاظتی آپریشن شمال مشرقی شام میں وسیع تر سیاسی اور عسکری پیش رفت کے دوران عمل میں آیا۔
اتوار کی شام شامی صدر احمد الشراع نے ایک جنگ بندی معاہدے کا اعلان کیا جس میں وائی پی جی دہشت گرد گروہ کی قیادت میں قائم ایس ڈی ایف کو ریاستی اداروں میں مکمل شمولیت شامل ہوگی ۔
معاہدے کے تحت گروپ کی عسکری یونٹیں فرات کے مشرق میں پیچھے ہٹیں گی، جبکہ رقہ اور دیر الزور صوبوں کا انتظامی اور سکیورٹی کنٹرول شامی ریاست کو منتقل کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ سرحدی راستے ، تیل و گیس کی فیلڈز اور شہری ادارے بھی حکومتی کنٹرول میں سونپے جائیں گے ۔
یہ معاہدہ اس فوجی کارروائی کے بعد طے پایا جو شامی فوج نے شروع کی تھی اور جس کے نتیجے میں سرکاری افواج نے مشرقی اور شمال مشرقی شام کے وسیع علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا۔
شامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب وائی پی جی دہشت گرد گروہ کی قیادت میں ایس ڈی ایف نے تقریباً ایک سال قبل دمشق کے ساتھ طے شدہ سابقہ معاہدوں کی بار بار خلاف ورزیاں کی تھیں۔








