اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی ایک ایسا عالمی فورم ہے جہاں رکن ممالک سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ عالمی امن، استحکام اور انسانی فلاح کے مشترکہ اہداف کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے سنجیدہ اور ذمہ دارانہ گفتگو کریں گے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے اس فورم کو بھی اپنی پرانی اور فرسودہ بیانیہ بازی کے لیے استعمال کرتا آ رہا ہے۔۱۶جنوری کو اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی جانب سے ایک بار پھر جموں و کشمیر کا معاملہ اٹھایا جانا اسی روش کا تسلسل تھا، جس کا بھارت نے دوٹوک اور مدلل جواب دے کر نہ صرف پاکستان کے دعوؤں کو مسترد کیا بلکہ ایک دیرینہ حقیقت کی جانب بھی عالمی توجہ مبذول کرائی۔
اقوامِ متحدہ میں بھارت کے مستقل مشن کے کونسلر ایلڈوس میتھیو پونوسے نے واضح الفاظ میں کہا کہ حقِ خود ارادیت جیسے بنیادی اصول کو کثیرالثقافتی اور جمہوری ریاستوں میں علیحدگی پسندی کو ہوا دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا یہ بیان اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان کس طرح بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی من مانی تشریح کر کے اپنے سیاسی اور اسٹریٹجک مقاصد کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔
پاکستان کا جموں و کشمیر کے حوالے سے مؤقف کسی اخلاقی یا قانونی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک طویل المدتی ریاستی پالیسی پر قائم ہے، جس کا محور سرحد پار دہشت گردی ہے۔ یہ حقیقت اب کسی خفیہ فائل یا انٹیلی جنس رپورٹ تک محدود نہیں رہی بلکہ خود پاکستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے رہنماؤں کے اعترافات سے عیاں ہو چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں لشکرِ طیبہ کے سینئر کمانڈر حافظ عبدالرؤف کا بیان اسی سلسلے کی ایک نہایت اہم کڑی ہے، جس نے پاکستان کے ریاستی کردار کو بے نقاب کر دیا ہے۔
حافظ عبدالرؤف نے نہ صرف یہ تسلیم کیا کہ مئی۲۰۲۵میں بھارتی فوجی کارروائی ’آپریشن سندور‘ کے دوران لشکرِ طیبہ کا مرکزی ہیڈکوارٹر مرِدکے مکمل طور پر تباہ ہو گیا، بلکہ یہ بھی اعتراف کیا کہ پاکستان دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے ’کھلی آزادی‘ فراہم کرتا ہے۔ ان کے الفاظ میں پاکستان دنیا کا سب سے آسان ملک ہے جہاں جہادیوں کی بھرتی، تربیت اور روانگی ریاستی سرپرستی میں ہوتی ہے۔ یہ بیان کسی بھارتی ترجمان کا نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کا ہے جو خود اس دہشت گرد نیٹ ورک کا حصہ رہا ہے۔
یہ اعتراف دراصل اس موقف کی توثیق کرتا ہے جو بھارت گزشتہ تیس برسوں سے عالمی برادری کے سامنے رکھتا آیا ہے کہ جموں و کشمیر میں بدامنی داخلی عوامی تحریک نہیں بلکہ پاکستان کی جانب سے مسلط کردہ سرحد پار دہشت گردی کا نتیجہ ہے۔
۱۹۹۰کی دہائی کے آغاز سے لے کر آج تک، پاکستان نے لشکرِ طیبہ، جیشِ محمد، حزب المجاہدین اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو ایک اسٹریٹجک اثاثے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ان تنظیموں کے تربیتی کیمپ، مالی وسائل، اسلحہ اور نظریاتی پشت پناہی سب کچھ ریاستی اداروں کی نگرانی میں ہوتا رہا ہے۔
آپریشن سندور، جو اپریل۲۰۲۵میں پہلگام میں۲۶ بے گناہ شہریوں کے قتلِ عام کے بعد کیا گیا، اسی پالیسی کا براہِ راست جواب تھا۔ اس کارروائی نے نہ صرف ایک بڑے دہشت گرد مرکز کو نیست و نابود کیا بلکہ اس بیانیے کو بھی کمزور کیا کہ پاکستان دہشت گردی سے لاتعلق ہے۔ اس کے باوجود، اطلاعات ہیں کہ لشکرِ طیبہ دوبارہ اسی مقام پر اپنی سرگرمیاں بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور جنوری۲۰۲۶ میں نئے بھرتی شدہ دہشت گردوں کی ایک تقریب کا انعقاد اسی بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے نہ اپنی روش بدلی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی سنجیدہ خود احتسابی کی طرف قدم بڑھایا ہے۔
پاکستان کی منافقت کا ایک اور پہلو اس وقت سامنے آیا جب حافظ عبدالرؤف نے چین کے ساتھ گہرے اسٹریٹجک تعاون کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق۲۰۲۵ کے دوران چین نے پاکستان کو بھارتی فوجی نقل و حرکت کے بارے میں تقریباً حقیقی وقت کی معلومات فراہم کیں۔ یہ انکشاف نہ صرف خطے کے توازنِ طاقت کے لیے تشویشناک ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح دہشت گردی، ریاستی سرپرستی اور بین الاقوامی سیاست ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔
اقوامِ متحدہ میں بھارت نے بجا طور پر یہ سوال اٹھایا کہ اگر یہ عالمی ادارہ امن و سلامتی کے اپنے بنیادی فریضے ادا کرنے میں ناکام رہا تو اس کی ساکھ، افادیت اور قانونی حیثیت پر سوالات اٹھیں گے۔ کشمیر کے معاملے میں پاکستان کی جانب سے بار بار جھوٹے بیانیے دہرانا اور دہشت گردی کو “حقِ خود ارادیت” کے پردے میں چھپانے کی کوشش اسی ناکامی کی ایک مثال ہے، جسے عالمی برادری اب مزید نظرانداز نہیں کر سکتی۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان کو اقوامِ متحدہ یا عالمی سطح پر اپنے کشمیر بیانیے پر کسی قسم کی خاطر خواہ حمایت حاصل نہیں ہو رہی۔ اس کے برعکس، بھارت نے گلوبل ساؤتھ کے مسائل، ترقیاتی انصاف، ماحولیاتی مالیات اور کثیرالجہتی اصلاحات جیسے موضوعات کو عالمی ایجنڈے پر لا کر ایک ذمہ دار اور سنجیدہ ریاست کے طور پر اپنا کردار مستحکم کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی تقریریں محض رسمی کارروائی بن کر رہ جاتی ہیں، جبکہ بھارت کی بات کو سنا بھی جاتا ہے اور سنجیدگی سے لیا بھی جاتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جموں و کشمیر میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کی وہ پالیسی ہے جو دہشت گردی کو ایک سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ جب تک پاکستان اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا، اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد ڈھانچے کو ختم نہیں کرتا اور ریاستی سرپرستی سے دستبردار نہیں ہوتا، اس وقت تک نہ خطے میں پائیدار امن ممکن ہے اور نہ ہی اس کے اپنے عالمی تشخص میں کوئی بہتری آ سکتی ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ پاکستان دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ عالمی برادری اس کھلی حقیقت کے ساتھ کب اور کیسے نمٹے گی۔





