سرینگر: برسوں کے انکار اور سفارتی دوغلے پن کو چیرتا ہوا ایک چونکا دینے والا عوامی اعتراف سامنے آیا ہے۔ پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) کے کمانڈر حافظ عبدالرؤف نے تسلیم کیا ہے کہ بھارت کے آپریشن سندور نے مریدکے میں تنظیم کے اعصابی مرکز پر کاری ضرب لگائی اور۶،۷مئی۲۰۲۵کی شب اس کے ہیڈکوارٹر مرکزِ طیبہ کو زمین بوس کر دیا۔
امریکہ کی جانب سے عالمی دہشت گرد قرار دیے گئے عبدالرؤف نے ایک اجتماع سے خطاب میں کہا کہ یہ حملہ ’بہت بڑا حملہ‘تھا اور اعتراف کیا کہ یہ کمپلیکس مکمل طور پر ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے۔
رؤف نے کہا ’’۶/۷مئی کو جو کچھ ہوا، وہ جگہ اب مسجد نہیں رہی۔ آج ہم وہاں بیٹھ بھی نہیں سکتے۔ سب کچھ ختم ہو چکا ہے، منہدم ہو گیا ہے‘‘۔
یہ ریمارکس لشکرِ طیبہ کے اندر سے اب تک کی سب سے براہِ راست تصدیق ہیں کہ بھارت کی کارروائی نے اپنے مطلوبہ ہدف کو نشانہ بنایا۔
رؤف لشکرِ طیبہ کا آپریشنل کمانڈر رہا ہے اور پاکستان آرمی کی سرپرستی میں پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر (پی او کے) میں قائم لانچ پیڈز سے دہشت گردوں کی تربیت اور دراندازی میں ملوث رہا ہے۔
یہ اعتراف اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ عبدالرؤف کوئی معمولی یا حاشیے کا کردار نہیں۔ اس نے اس سے قبل ان دہشت گردوں کی نمازِ جنازہ بھی پڑھائی تھی جو ان حملوں میں مارے گئے تھے، جن کی تصاویر اس وقت وائرل ہوئی تھیں۔ اب، مہینوں بعد، اس کے الفاظ نے مریدکے میں موجود ڈھانچے اور وہاں ہونے والے نقصان کے گرد قائم آخری پردے بھی چاک کر دیے ہیں۔
آپریشن سندور اپریل۲۰۲۵کے پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد شروع کیا گیا تھا، جس میں لشکرِ طیبہ نے اپنی ذیلی شناخت دی ریزسٹنس فرنٹ(ٹی آر ایف)کے پردے میں جموں و کشمیر میں۲۶شہریوں کو قتل کیا تھا۔
تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ حملہ آوروں نے چینی ساختہ ہتھیار اور آلات استعمال کیے، جو پاکستان میں قائم دہشت گرد گروہوں تک پہنچنے والی سپلائی چین کے پھیلاؤ اور اس کی بڑھتی ہوئی نفاست کی نشاندہی کرتا ہے۔
رؤف نے کھلے عام یہ بھی مانا کہ بعد ازاں ہونے والی جھڑپوں کے دوران پاکستان اور لشکرِ طیبہ نے واقعی چینی ہتھیار اور سازوسامان استعمال کیا۔تاہم اس کے بیانات محض نقصان کے اعتراف تک محدود نہیں رہے۔
ایک غیر معمولی اور تقریباً شیخی آمیز انکشاف میں عبدالرؤف نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے ’جہاد کے لیے کھلی آزادی‘ دے رکھی ہے اور وہاں دہشت گردوں کی بھرتی اور تربیت دنیا میں کہیں بھی اس قدر آسان نہیں۔
اس نے کہا’’ریاست نے فیصلہ کیا ہے، اسی لیے ہم یہ سب کر پا رہے ہیں‘‘۔
یہ بیان عملی طور پر اُن الزامات کی تصدیق ہے جو نئی دہلی طویل عرصے سے عائد کرتا آیا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں محض برداشت کے ساتھ نہیں بلکہ ادارہ جاتی سرپرستی کے تحت کام کر رہی ہیں۔
رؤف نے چین کی تعریف بھی کی اور کہا کہ پہلگام حملے کے بعد بھارت،پاکستان کشیدگی کے دوران جسے اس نے ’بنیانِ مرصوص‘ کہا، اس مرحلے میں بیجنگ نے پاکستان کی مدد کی۔ اس کے مطابق چین نے پاکستان کو بھارت سے متعلق قریباً حقیقی وقت کی انٹیلی جنس فراہم کی۔
ایک معنی خیز جملے میں اس نے کہا کہ’’جن کے طیارے کبھی فروخت ہوتے تھے وہ اب کباڑ بن چکے ہیں‘‘۔ اور دعویٰ کیا کہ چینی جنگی طیاروں اور آلات کی عالمی مانگ بڑھ رہی ہے—یہ بیان اس کے خطاب میں پوشیدہ اسٹریٹجک پیغام کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
وسیع تر پس منظر اس اعتراف کو مزید دھماکہ خیز بنا دیتا ہے۔ رواں سال۱۵جنوری کو مریدکے کے اسی مرکزِ طیبہ میں نئے تربیت یافتہ دہشت گردوں کی پاسنگ آؤٹ تقریب منعقد ہوئی تھی—وہی مقام جس کے بارے میں عبدالرؤف اب کہتا ہے کہ وہ تباہ ہو چکا ہے۔ اس تقریب میں خود عبدالرؤف، حافظ سعید کے بیٹے حافظ طلحہ سعید، اور لشکر کے نائب سربراہ سیف اللہ قصوری سمیت دیگر اعلیٰ کمانڈر شریک تھے۔ یہ تقریب تسلسل کا کھلا مظاہرہ تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپریشن سندور کے بعد بھی جہادی ڈھانچہ سرکاری چشم پوشی کے سائے میں دوبارہ تعمیر یا منتقل کیا جا رہا تھا۔
عبدالرؤف کی تقریر میں شکوہ، فتح کا احساس اور مذہبی حوالہ جات گڈمڈ تھے۔اس نے کہا:’’اللہ نے ہمیں بچایا، اللہ نے ہماری مدد کی‘‘۔ساتھ ہی بھارتی حملے کی شدت کو بھی تسلیم کیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے پاس ’آخری تفصیل تک‘ انٹیلی جنس موجود تھی اور یہ تبادلے ’امریکہ اور یورپ تک گونج گئے‘ یوں اس نے اس تصادم کو علاقائی کے بجائے عالمی لمحہ بنا کر پیش کیا۔










