اس کارروائی نے نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ بھارت اپنی سلامتی کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا:جنرل دویدی
جے پور: بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی نے بدھ کے روز کہا کہ آپریشن سندور بدستور جاری ہے اور دشمن کی ہر سرگرمی پر گہری اور مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
وہ جے پور میں ساؤتھ ویسٹرن کمانڈ کے انویسٹیچر تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
آرمی چیف نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران بھارتی فوج، بحریہ اور فضائیہ نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پاکستان میں موجود دہشت گردوں کے نو کیمپوں اور انفراسٹرکچر کو محض۲۲منٹ میں نہایت درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔
جنرل دیویدی نے کہا’’آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور ہم دشمن کی ہر حرکت پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں‘‘۔
آرمی چیف نے بتایا کہ۲۲؍اپریل۲۰۲۵ کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد اعلیٰ ترین سطح پر یہ واضح فیصلہ کیا گیا تھا کہ بھارت فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔
جنرل دویدی نے کہا’’آپریشن سندور اسی عزم کا نتیجہ تھا۔ محض۸۸گھنٹوں کے اندر ہماری درست نشانہ بندی، پیشہ ورانہ صلاحیت اور آپریشنل برتری نے پاکستان کو جنگ بندی پر رضامند ہونے پر مجبور کر دیا‘‘۔
آرمی چیف کے مطابق یہ کارروائی بھارتی مسلح افواج کی مشترکہ طاقت، ہم آہنگی اور تیز رفتار فیصلہ سازی کی ایک واضح مثال ہے، جس نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ بھارت اپنی سلامتی کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
دریں اثنا فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر نہ صرف جغرافیائی اعتبار سے اہم ہے بلکہ ہندستان کی قومی سلامتی کے ڈھانچے کا ایک ’مرکزی ستون‘ بھی ہے ۔
راجوری میں سابق فوجیوں کی دسویں سالانہ اختتامی تقریب سے خطاب کے دوران فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما نے کہا کہ ڈیڑھ کروڑ کی آبادی کے باوجود ریاست کی فورسز میں۴سے۵فیصد نمائندگی ہونا کسی بھی خطے کے لیے غیر معمولی اعزاز ہے ۔
جنرل شرما نے کہا کہ خطے کی فوجی تاریخ مختلف رجمنٹوں کے شاندار کارناموں سے عبارت ہے ، جن میں جیک رائفلز، جیک لائٹ انفنٹری اور ڈوگرا رجمنٹ شامل ہیں، جو ہر جنگ میں بہادری اور قربانی کی مثال بنی رہیں۔
شمالی کمان کے سربراہ نے بتایا کہ جموں کشمیر اس وقت۴۵ہزار کے قریب سابق فوجیوں اور۹۷۵ویر ناریوں کا گھر ہے ، جو مختلف سماجی و انتظامی کرداروں میں ملک کی خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق فوجیوں نے آفات کی صورتحال سمیت کئی مواقع پر سویلین انتظامیہ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کیا۔
جنرل شرما نے آپریشن سندور میں سابق فوجیوں کی شرکت اور تعاون کا خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ ان کے تجربے ، مقامی معلومات اور حوصلہ افزائی نے سرحدی علاقوں میں تعینات جوانوں کے حوصلے بلند کیے ۔
یوم سابق فوجیوں کی تقریبات۸سے۱۴جنوری تک شمالی کمان کے مختلف علاقوں میں منعقد ہوئیں۔ راجوری میں اختتامی تقریب کے دوران لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی اور عوامی شرکت کو فوجی کمانڈر نے حوصلہ افزا اور باعثِ اطمینان قرار دیا۔
جنرل شرما نے دھرو موٹر سائیکل ریلی کے۷۴۰کلومیٹر پربحران راستوں سے سفر کرنے والے شرکا کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی ہمت، نظم اور استقامت قابلِ داد ہے ۔
شمالی کمان کے سربراہ نے کہا کہ پنشن، طبی سہولیات، سماجی بہبود، روزگار اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی بہتر بنانے کے لیے فوج اور سول انتظامیہ مشترکہ کوششیں کر رہی ہیں تاکہ تمام فلاحی اسکیمیں وقت پر اور عملی طور پر سابق فوجیوں تک پہنچ سکیں۔










