سرینگر: جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے دسویں اور بارہویں جماعت کے سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے، جن میں مجموعی طور پر نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
حکام کے مطابق دونوں جماعتوں میں پاس ہونے کی شرح گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بہتر رہی، جبکہ لڑکیوں نے ایک بار پھر لڑکوں پر سبقت حاصل کی ہے۔
دسویں جماعت کے سالانہ ریگولر امتحان میں مجموعی طور پر 85.03 فیصد طلبہ کامیاب قرار پائے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 94,845 طلبہ نے امتحان میں شرکت کی، جن میں سے 80,650 طلبہ کامیاب ہوئے۔
جے کے بوس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں یہ پاس فیصد سب سے زیادہ ہے، جو تعلیمی کارکردگی میں مجموعی بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال دسویں جماعت کا مجموعی پاس فیصد تقریباً 79 فیصد تھا، جبکہ 2023 میں یہ شرح تقریباً 80 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
حکام کے مطابق نتائج میں یہ تسلسل طلبہ اور اساتذہ کی مشترکہ محنت کا ثبوت ہے۔
ادھر بارہویں جماعت کے سالانہ امتحانات کے نتائج میں بھی اطمینان بخش کارکردگی سامنے آئی ہے۔ کشمیر ڈویژن اور جموں کے سرمائی علاقوں سے تعلق رکھنے والے 70,735 طلبہ نے امتحان دیا، جن میں سے 59,435 امیدوار کامیاب قرار پائے۔ اس طرح مجموعی پاس فیصد 84.02 رہا۔
بارہویں جماعت کے نتائج میں بھی لڑکیوں نے ایک بار پھر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جہاں لڑکوں کا پاس فیصد 82 رہا، وہیں لڑکیوں نے 86 فیصد کامیابی حاصل کی، جس سے یہ رجحان مزید مضبوط ہوا کہ بورڈ امتحانات میں طالبات مسلسل بہتر نتائج دے رہی ہیں۔
بورڈ کے عہدیداروں نے دونوں جماعتوں کے مجموعی نتائج کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کامیاب طلبہ کو مبارکباد دی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ بہتری آنے والے برسوں میں بھی برقرار رہے گی۔
۲۱ویں جماعت کے امتحانی نتائج کے اعلان کے بعد یہ بات نمایاں طور پر سامنے آئی ہے کہ مختلف تعلیمی شعبوں میں ٹاپ پوزیشنز حاصل کرنے والے طلبہ میں سرکاری اسکولوں کا حصہ قابلِ ذکر رہا ہے۔ مجموعی طور پر تقریباً۲۹طلبہ، جن کا تعلق سرکاری اور نجی ہائیر سیکنڈری اسکولوں سے ہے، نے تمام اسٹریمز میں پہلی تین پوزیشنز مشترکہ طور پر حاصل کیں۔
سائنس اسٹریم میں ٹاپ تین پوزیشنز حاصل کرنے والے۱۳طلبہ میں سے۷کا تعلق سرکاری اسکولوں سے ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سرکاری تعلیمی ادارے بھی معیاری تعلیم فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی طرح کامرس اسٹریم میں ٹاپ پوزیشنز حاصل کرنے والے۶طلبہ میں سے۳سرکاری اسکولوں کے طالب علم ہیں۔
آرٹس اسٹریم میں بھی سرکاری اسکولوں کے طلبہ نے نمایاں کارکردگی دکھائی، جہاں ٹاپ تین پوزیشنز حاصل کرنے والے۷طلبہ میں سے۴کا تعلق سرکاری تعلیمی اداروں سے ہے۔ آرٹس اسٹریم میں پہلی پوزیشن گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول مٹن کے طالب علم نے حاصل کی، جو سرکاری اسکولوں کی تعلیمی کارکردگی کا ایک اور واضح ثبوت ہے۔
ہوم سائنس اسٹریم میں تو سرکاری اسکولوں کے طلبہ نے مکمل برتری حاصل کی۔ اس اسٹریم میں پہلی تینوں پوزیشنز سرکاری اسکولوں کے حصے میں آئیں۔ پہلی اور دوسری پوزیشن گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول کوٹھی باغ کے طلبہ نے حاصل کی، جبکہ تیسری پوزیشن گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری اسکول رانی باغ، اننت ناگ کی طالبہ نے حاصل کی۔
تعلیمی ماہرین اور جے کے بوس کے عہدیداروں نے نتائج کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری اسکولوں کے طلبہ کی ٹاپ پوزیشنز میں نمایاں موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ تعلیمی معیار میں بتدریج بہتری آ رہی ہے، جس کا فائدہ براہِ راست طلبہ کو حاصل ہو رہا ہے۔










