سرینگر: جموں و کشمیر کے محکمہ فوڈ سیفٹی کے عہدیداروں نے پیر کے روز سرینگر کے برتھانہ قمر واری علاقے میں سڑک کنارے خالص کشمیری برانڈ کے نام پر جعلی شہد اور گھی فروخت کرنے والے غیر مقامی افراد کے ایک گروہ کا پردہ فاش کیا۔
محکمہ فوڈ سیفٹی کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ تقریباً تین روز قبل قابلِ عمل اطلاعات موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد مشتبہ افراد کو قریبی نگرانی میں رکھا گیا۔ اطلاع کی بنیاد پر فوڈ سیفٹی ٹیم نے علی الصبح کارروائی کرتے ہوئے صبح تقریباً ۸بجے مشتبہ جعلی شہد اور گھی کی مقدار ضبط کی۔
عہدیدار نے بتایا کہ اس گروہ میں راجستھان اور بہار سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے، جو کسی رجسٹرڈ مینوفیکچرنگ یونٹ کے بغیر کام کر رہے تھے۔
فیکٹری کے بجائے یہ افراد مختلف مقامات پر سڑک کنارے فروخت کنندگان کے طور پر سرگرم تھے اور اپنی مصنوعات کو خالص کشمیری خوراک کے طور پر پیش کر کے راہگیروں اور خریداروں کو گمراہ کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ملاوٹ شدہ مصنوعات فٹ پاتھوں اور مصروف سڑکوں کے کنارے فروخت کی جا رہی تھیں تاکہ صارفین، بالخصوص سیاحوں اور مقامی لوگوں کو جو روایتی کشمیری مصنوعات کی تلاش میں ہوتے ہیں، دھوکہ دیا جا سکے۔
ضبط شدہ اشیا کو سیل کر دیا گیا ہے اور ان کے نمونے تفصیلی جانچ کے لیے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں تاکہ ان کے معیار اور اجزا کا تعین کیا جا سکے۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ لیبارٹری رپورٹس موصول ہونے کے بعد فوڈ سیفٹی قوانین کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملاوٹ شدہ یا غلط لیبل شدہ غذائی اشیا کی فروخت سنگین صحت کے خطرات کا باعث بنتی ہے اور ایسی سرگرمیوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
محکمہ فوڈ سیفٹی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سڑک کنارے دکانداروں سے غذائی اشیا خریدتے وقت محتاط رہیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔










