جموں: جموں کشمیر اسمبلی کا۲۷روزہ طویل بجٹ اجلاس ۲روری سے یہاں شروع ہوگا، جس کے دوران عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت۶فروری کو ایوان میں اپنا بجٹ پیش کرے گی۔
اسمبلی کا پانچواں اجلاس، جو تین ماہ کے عرصے پر محیط ہوگا‘۲فروری کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے خطاب سے شروع ہوگا۔
یہ عمر عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس حکومت کا دوسرا بجٹ ہوگا، جس نے۱۶؍اکتوبر۲۰۲۴کو اقتدار سنبھالا تھا، یوں تقریباً چھ سالہ مرکزی حکومت کے دور کا اختتام ہوا تھا۔
اسپیکر عبدالرحیم راتھر کی جانب سے جاری کردہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے کیلنڈر کے مطابق بجٹ اجلاس۴؍اپریل کو اختتام پذیر ہوگا۔
اجلاس تین مرحلوں میں منعقد کیا جائے گا—پہلا مرحلہ رمضان کے آغاز سے قبل، جبکہ دو مراحل عیدالفطر کے بعد مارچ اور اپریل میں ہوں گے۔ رمضان کا آغاز چاند کی رویت کے مطابق۱۸یا۱۹فروری کو متوقع ہے۔
اسمبلی کیلنڈر کے مطابق فروری میں۱۸ کاروباری دن ہوں گے، جن کے دوران مالی سال۲۰۲۶۔۲۰۲۷ بجٹ اور۲۰۲۵۔۲۰۲۶کے لیے ضمنی بیانِ اخراجات وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ۶فروری کو پیش کریں گے۔
کیلنڈر کے مطابق مارچ اور اپریل میں بالترتیب پانچ اور چار کاروباری دن ہوں گے۔
اسمبلی سیکریٹریٹ نے اراکینِ اسمبلی سے درخواست کی ہے کہ وہ۱۲جنوری تک۱۰سے زائد ستارہ دار اور۱۰سے زائد غیر ستارہ دار سوالات جمع نہ کرائیں‘۱۵جنوری تک دو سے زیادہ بلز جمع نہ کرائیں، اور۱۷جنوری تک چار سے زیادہ قراردادیں جمع نہ کریں۔
۔۔۔۔۔۔
اسمبلی کا پانچواں اجلاس، جو تین ماہ کے عرصے پر محیط ہوگا‘۲فروری کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے خطاب سے شروع ہوگا۔
یہ عمر عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس حکومت کا دوسرا بجٹ ہوگا، جس نے۱۶؍اکتوبر۲۰۲۴کو اقتدار سنبھالا تھا، یوں تقریباً چھ سالہ مرکزی حکومت کے دور کا اختتام ہوا تھا۔
اسپیکر عبدالرحیم راتھر کی جانب سے جاری کردہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے کیلنڈر کے مطابق بجٹ اجلاس۴؍اپریل کو اختتام پذیر ہوگا۔
اجلاس تین مرحلوں میں منعقد کیا جائے گا—پہلا مرحلہ رمضان کے آغاز سے قبل، جبکہ دو مراحل عیدالفطر کے بعد مارچ اور اپریل میں ہوں گے۔ رمضان کا آغاز چاند کی رویت کے مطابق۱۸یا۱۹فروری کو متوقع ہے۔
اسمبلی کیلنڈر کے مطابق فروری میں۱۸ کاروباری دن ہوں گے، جن کے دوران مالی سال۲۰۲۶۔۲۰۲۷ بجٹ اور۲۰۲۵۔۲۰۲۶کے لیے ضمنی بیانِ اخراجات وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ۶فروری کو پیش کریں گے۔
کیلنڈر کے مطابق مارچ اور اپریل میں بالترتیب پانچ اور چار کاروباری دن ہوں گے۔
اسمبلی سیکریٹریٹ نے اراکینِ اسمبلی سے درخواست کی ہے کہ وہ۱۲جنوری تک۱۰سے زائد ستارہ دار اور۱۰سے زائد غیر ستارہ دار سوالات جمع نہ کرائیں‘۱۵جنوری تک دو سے زیادہ بلز جمع نہ کرائیں، اور۱۷جنوری تک چار سے زیادہ قراردادیں جمع نہ کریں۔
۔۔۔۔۔۔










