جموں: بین الاقوامی سرحد کے قریب واقع ضلع سانبہ کے پلوڑہ گاؤں میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب بارڈر سکیورٹی فورس نے ایک مشکوک پیکٹ برآمد کیا جس میں اسلحہ اور گولہ بارود موجود تھا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی بی ایس ایف نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ایک وسیع اور منظم تلاشی کارروائی شروع کر دی۔
ذرائع کے مطابق، یہ مشکوک پیکٹ سرحد سے متصل ایک جھاڑی والے مقام کے قریب ملا، جسے دیکھتے ہی اہلکاروں نے اسے محفوظ طریقے سے قبضے میں لے لیا اور فوری طور پر تکنیکی جانچ کے لیے بھیج دیا۔
ابتدائی معائنہ میں پیکٹ سے اسلحہ، گولیاں اور ممکنہ طور پر استعمال کے لیے تیار دیگر مواد برآمد ہوا ہے ، تاہم مکمل تفصیلات فارنزک جانچ کے بعد سامنے آئیں گی۔
بی ایس ایف افسران نے بتایا کہ پیکٹ کی پیکنگ اور اس کی جگہ بندی سے یہ خدشہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسے ڈرون ڈلیوری کے ذریعے سرحد پار سے پھینکا گیا ہو سکتا ہے ، جیسا کہ حالیہ مہینوں میں جموں خطے کے متعدد حساس اضلاع میں دیکھنے میں آیا ہے ۔
سانبہ، کٹھوعہ اور ارنیا سیکٹر میں پچھلے ایک سال کے دوران کئی بار ڈرون کے ذریعے اسلحہ، منشیات اور پیسوں کی اسمگلنگ کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، جن کے خلاف بی ایس ایف مسلسل آپریشن چلا رہی ہے ۔
مقامی لوگوں کے مطابق، گزشتہ رات دیر گئے علاقے میں کچھ غیر معمولی آوازیں سنائی دی تھیں، جس کے بعد یہ شبہ بڑھ گیا کہ مذکورہ پیکٹ رات کے اندھیرے میں کسی بیرونی ذریعے سے گرایا گیا ہو سکتا ہے ۔
پولیس اور بی ایس ایف نے آس پاس کے رہائشی علاقوں میں بھی تلاشی مہم تیز کر دی ہے تاکہ کسی شخص کی اس میں ممکنہ شمولیت کا پتہ چل سکے ۔
ایک سینئر بی ایس ایف افسر نے بتایا کہ ہم سرحد کے اس پار سے ہونے والی ہر قسم کی سرگرمی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس طرح کے پیکٹ عام طور پر دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیار پہنچانے کی کوشش ہوتے ہیں، لیکن ہماری چوکس فورسز ان کوششوں کو ناکام بناتی آ رہی ہیں۔
بی ایس ایف نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سرحدی علاقوں میں کسی بھی مشکوک شے یا نقل و حرکت کی فوری طور پر اطلاع دیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے ۔
اس دوران جموں کے اکھنور سیکٹر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب اس وقت حیرت کی لہر دوڑ گئی جب ایک مشتبہ کبوتر کو سرحدی گاؤں کھڑہ میں مقامی بچے نے پکڑ لیا۔
حکام کے مطابق، کبوتر کے پیروں میں لگی انگوٹھیاں اور پروں پر موجود مہر نما نشانات نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے ، جس کے بعد سکیورٹی اداروں نے اس کی تفتیش شروع کر دی ہے ۔
ذرائع نے بتایا کہ۱۳سالہ آریَن نامی لڑکے نے صبح کے وقت ایک کبوتری رنگ کا پرندہ پکڑا، جس کے دونوں پروں پر سیاہ پٹیاں اور پیروں میں سرخ و زرد رنگ کی دو انگوٹھیاں لگی ہوئی تھیں۔ ان انگوٹھیوںپر’رحمت سرکاررضوان۲۰۲۵‘ کے الفاظ درج تھے ، جن کے ساتھ کچھ نمبرز بھی تحریر تھے ۔
حکام کے مطابق یہ نشانات اسے مشتبہ بناتے ہیں کیونکہ ماضی میں بھی سرحدی علاقوں سے اس نوعیت کے کبوتروں کی برآمدگی کے بعد انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کئی پہلوؤں کی جانچ کی تھی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ کبوتر کے پروں پر مخصوص اسٹیمپنگ بھی پائی گئی ہے ، جو ممکنہ طور پر کسی تربیت یافتہ یا پیغام رساں مقصد سے اس کے استعمال کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔
ایسے واقعات اس سے قبل بھی سرحدی اضلاع پونچھ، راجوری اور اکھنور میں سامنے آ چکے ہیں، جنہیں سیکیورٹی ماہرین بعض اوقات ایک طریقہ ٔرابطہ یا نگرانی کے آلے کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی لوگوں نے پرندے کو پلانوالہ پولیس اسٹیشن کے حوالے کر دیا، جہاں ابتدائی جانچ کے بعد اسے مزید سکیورٹی ایجنسیوں کے سپرد کیا جائے گا تاکہ اس کے جسم پر موجود نشانات، انگوٹھیوں کے نمبر اور ممکنہ پیغام رسانی کے پہلوؤں کی تفتیش کی جا سکے ۔
ادھر سرحدی علاقوں میں رہنے والے باشندوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر کسی بھی مشکوک پرندے یا شے کا مشاہدہ ہو تو فوری طور پر پولیس یا سیکیورٹی فورسز کو مطلع کریں۔










