ایودھیا: حکام نے بتایا کہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک۵۵ سالہ شخص کو ہفتہ کے روز یہاں حراست میں لیا گیا، جب اس پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے رام مندر احاطے کے اندر نماز ادا کرنے کی کوشش کی اور روکے جانے پر نعرے لگائے۔
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (سکیورٹی) بلرامچاری دوبے کے مطابق، اس شخص کی شناخت احمد شیخ کے طور پر ہوئی ہے، جو جموں و کشمیر کے ضلع شوپیاں کا رہائشی ہے۔
پولیس نے کہا کہ شیخ کے اہلِ خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ذہنی طور پر بیمار ہے اور اس کے ثبوت کے طور پر سرینگر میڈیکل کالج کے شعبۂ نفسیات سے متعلق طبی ریکارڈ بھی فراہم کیے ہیں۔
شیخ کے بیٹے عمران نے شوپیاں میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا’’ہمیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ وہ مکمل طور پر غیر متوازن ہے‘‘۔
حکام کے مطابق، ملزم دن کے وقت مندر کے احاطے میں داخل ہوا، درشن کئے اور بعد ازاں سیتا رسوئی کے قریب بیٹھ گیا، جہاں وہ مبینہ طور پر نماز ادا کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔
سکیورٹی اہلکاروں نے اس کی سرگرمیوں کو نوٹ کیا اور فوری طور پر مداخلت کی، جس کے بعد اسے مندر کی سکیورٹی نے حراست میں لے کر مقامی پولیس کے حوالے کر دیا۔ کچھ ذرائع کے مطابق، روکے جانے پر اس شخص نے نعرے بھی لگائے۔
اہلکار نے بتایا کہ تفتیشی ادارے اس شخص سے اس کے ارادے جاننے کے لیے پوچھ گچھ کر رہے ہیں اور اس کے سفر کی تفصیلات بھی جانچ رہے ہیں، جن میں ایودھیا آنے کا مقصد اور یہ کہ آیا اس میں کوئی اور شخص ملوث تھا یا نہیں، شامل ہے۔
ابتدائی جانچ کے دوران پولیس نے اس کے قبضے سے کاجو اور کشمش جیسی اشیاء برآمد کیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق، اس شخص نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ اجمیر جا رہا تھا۔
واقعے کے بعد سینئر پولیس افسران اور انٹیلی جنس ایجنسیاں رام مندر احاطے میں سکیورٹی انتظامات کا بھی جائزہ لے رہی ہیں۔ ضلع انتظامیہ اور رام مندر ٹرسٹ نے تاحال اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔










