سرینگر: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز کہا کہ حالیہ برف باری کے بعد کشمیر کے اہم سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی آمد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جو وادی کی اہم سیاحتی صنعت کیلئے بتدریج بحالی کی علامت ہے۔
ایک مقامی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے گزشتہ برس کو ایک مشکل سال قرار دیا۔
ان کاکہنا تھا’’۲۰۲۵ہمارے لیے ایک مشکل سال تھا۔ جیسے ہی سیاحت میں بہتری آنا شروع ہوئی، دہلی بم دھماکہ ایک اور دھچکا ثابت ہوا، اس سے قبل سال کے آغاز میں پہلگام میں ہونے والا مہلک ترین دہشت گرد حملہ بھی پیش آ چکا تھا۔ تاہم، برف باری کے آغاز کے بعد کشمیر میں سیاحت میں اضافہ ہوا ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے تشہیر اور اعداد و شمار کے حوالے سے حکمتِ عملی میں تبدیلی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا’’اس مرتبہ ہم سیاحت کے اعداد و شمار جاری نہیں کریں گے، لیکن سیاحت کے فروغ کا عمل جاری رہے گا۔ اعداد و شمار اور ہماری کامیابی کا تناسب ہمارے پاس ہی رہے گا‘‘۔
عمر عبداللہ نے مزید کہا’’ہماری بڑی سیاحتی منڈیاں گجرات، مہاراشٹر اور مغربی بنگال ہیں۔ ہم ان ریاستوں سے سیاحتی آمد کو بحال کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ میں یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ ہم مکمل طور پر کامیاب ہو گئے ہیں، لیکن برف باری کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاحت بتدریج بحال ہو رہی ہے‘‘۔
ادھر رواں ہفتے کے آغاز میں، ڈائریکٹر ٹورازم کشمیر سید قمر سجاد نے حوصلہ افزا رجحان کی نشاندہی کی۔ سجاد نے کہا’’سیاحت کی بحالی حوصلہ افزا رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے، اور ملک بھر سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے‘‘۔
ڈائریکٹر ٹورازم نے گلمرگ گونڈولا کو ایک اہم پیمانہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جنوری کے ابتدائی دنوں میں سیاحوں کی تعداد گزشتہ سال کے اسی عرصے کے قریب پہنچ چکی ہے، جو۲۰۲۶میں شعبۂ سیاحت کی بحالی کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔
سجاد نے مزید کہا’’گونڈولا گلمرگ کے لیے ایک نعمت ثابت ہوا ہے، جو دور دراز علاقوں سے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ نئے سال کے ابتدائی پانچ دنوں میں بھی یہاں غیر معمولی مصروفیت رہی، جہاں سیاحوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں‘‘۔
ڈائریکٹر ٹورازم نے بتایا کہ محکمۂ سیاحت نے گونڈولا کی ہموار کارروائی اور سیاحوں کے بہتر تجربے کے لیے جامع انتظامات کیے ہیں۔
دریں اثنا، محکمۂ سیاحت کے ایک سینئر عہدیدار نے خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے اس بحالی کی تصدیق کی اور اسے مقامی معیشت کے لیے ایک مثبت علامت قرار دیا۔
انہوں نے کہا’’سرمائی سیاحت میں قابلِ ذکر بحالی دیکھنے میں آئی ہے۔ گلمرگ بدستور ملک کا ونٹر گیمز دارالحکومت بنا ہوا ہے، جہاں ہوٹلوں کی گنجائش تقریباً سو فیصد تک پہنچ چکی ہے‘‘۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق۲۰۲۵کے دوران کشمیر میں 10.47 لاکھ سے زائد ملکی سیاح اور۲۱ہزار۳۶۱غیر ملکی سیاح آئے، جس سے مجموعی سیاحوں کی تعداد تقریباً 10.68 لاکھ رہی۔
سیاحوں کے تجربے کو مزید بہتر بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے فوڈ فیسٹیولز کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جن میں مقامی کھانوں کے ساتھ ساتھ دیگر بھارتی ریاستوں اور بین الاقوامی ذائقوں کو بھی پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف سرمائی کھیلوں کے مقابلے بھی منعقد کیے جا رہے ہیں، محکمۂ سیاحت کے عہدیدار نے بتایا۔










