سرینگر: جموں کشمیر کابینہ کے سینئر وزیر جاوید رانا نے کہا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب لداخ دوبارہ متحد جموں و کشمیر کا حصہ بنے گا، کیونکہ مرکزی حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی اور متبادل نہیں ہے ۔
وزیر موصوف قبائلی برادریوں کے ساتھ ایک پروگرام کے دوران میڈیا کے سوالات کا جواب دے رہے تھے ۔
جاوید رانا، جو جَل شکتی، جنگلات، ایکولوجی، ماحولیات اور قبائلی امور کے محکموں کے سربراہ ہیں، نے کہا کہ جموں خطے کو الگ ریاست بنانے کے مطالبے کی کوئی بنیاد نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ دن قریب ہے جب لداخ دوبارہ جموں و کشمیر کے ساتھ متحد ہوگا۔ حکومت ہند کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے ۔
وزیر نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب جموں و کشمیر ایک مکمل ریاست ہوا کرتا تھا’’آپ نے اس ریاست کا ایک حصہ پاکستان کو دے دیا’ گلگت بلتستان بھی چلا گیا۔ پھر آپ نے لداخ کو ہم سے الگ کر دیا۔ اب ہمارے پاس صرف جموں و کشمیر بچا ہے ۔ اور جنہوں نے یہ تقسیم کی، وہ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ کنک منڈی کو بھی ریاست بنایا جائے ‘‘۔
رانا نے مزید کہا کہ پیر پنچال اورچناب ویلی کی طرف سے کبھی ایسا مطالبہ سامنے نہیں آیا، اس لیے اس بحث کی کوئی عملی حیثیت نہیں ہے ’’اگر کل کنک منڈی کو بھی ریاست بنانے کا اعلان ہو جائے تو کون روک سکتا ہے ؟‘‘۔
واضح رہے کہ مرکز نے۵؍اگست۲۰۱۹کو آئین کی دفعہ۳۷۰کو منسوخ کرنے کے ساتھ ہی جموں و کشمیر کی سابقہ ریاست کو دو حصوں ‘جموں و کشمیر اور لداخ ‘ میں تقسیم کر کے یونین ٹیریٹریز میں بدل دیا تھا۔










