سرینگر: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے ہفتہ کے روز کہا کہ ’لو جہاد‘ کو روکنے کی کوششوں کا آغاز گھروں سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس ضمن میں خاندانی سطح پر بات چیت، خواتین میں بیداری پیدا کرنے اور اجتماعی سماجی ردِعمل کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بات انہوں نے یہاں سنگھ کی جانب سے خواتین کے سماج میں کردار پر منعقدہ ’ستری شکتی سمواد‘ پروگرام سے خطاب کے دوران کہی، جیسا کہ آر ایس ایس کی ایک ریلیز میں بتایا گیا ہے۔
بھاگوت نے اپنے خطاب میں ’لو جہاد‘ کے مسئلے کا بھی ذکر کیا۔قابلِ ذکر ہے کہ ’لو جہاد‘ کی اصطلاح دائیں بازو کی تنظیمیں اس الزام کے طور پر استعمال کرتی ہیں کہ مسلمان مرد ہندو خواتین کو رشتوں اور شادی کے ذریعے اسلام قبول کروانے کی سازش کرتے ہیں۔
بھاگوت نے کہا کہ خاندانوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ایک لڑکی کس طرح کسی اجنبی کے اثر میں آ سکتی ہے، اور اس کی ایک بڑی وجہ گھروں کے اندر مکالمے کی کمی ہے، جیسا کہ ریلیز میں کہا گیا۔
ریلیز کے مطابق، آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے تین سطحوں پر کوششیں درکار ہیں—خاندانوں کے اندر مسلسل بات چیت، لڑکیوں میں بیداری پیدا کرنا اور انہیں خود کو محفوظ رکھنے کی تربیت دینا، اور ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی۔
بھاگوت نے مزید کہا کہ سماجی تنظیموں کو بھی چوکس رہنا چاہیے اور سماج کو اجتماعی طور پر ردِعمل دینا چاہیے تاکہ کسی حل تک پہنچا جا سکے۔
آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ مذہب، ثقافت اور سماجی نظام خواتین کی بدولت محفوظ ہیں، اور ان کے بااختیار بنانے، نظریاتی رہنمائی اور خاندانی و سماجی زندگی میں زیادہ شمولیت کی ضرورت پر زور دیا۔
بھاگوت نے کہا’’وہ وقت گزر چکا ہے جب خواتین کو تحفظ کے نام پر گھروں تک محدود رکھا جاتا تھا‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ خاندان اور سماج مردوں اور خواتین کی مشترکہ کوششوں سے آگے بڑھتے ہیں، اس لیے دونوں کا ’پربودھن‘ (بیداری/آگہی) ضروری ہے۔
اس پروگرام کے دوران آر ایس ایس کے مدھیہ بھارت ’پرانت سنگھ چالک‘ اشوک پانڈے اور ’وبھاگ سنگھ چالک‘ سوم کانت اُمالکر اسٹیج پر موجود تھے۔
بھاگوت نے مزید کہا کہ خواتین خاندان میں نگہداشت کرنے والوں کے طور پر مرکزی کردار ادا کرتی ہیں اور توازن، حساسیت اور نظم برقرار رکھنے میں ان کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین خاندان سے سماج اور قوم تک ’ذات‘ کا احساس لے کر جاتی ہیں۔انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ خواتین آبادی کا تقریباً نصف حصہ ہیں، اور سماجی و قومی کاموں میں زیادہ سے زیادہ خواتین کو شامل کرنے کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔
ذہنی صحت کے موضوع پر بات کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ خاندان میں کوئی بھی خود کو تنہا محسوس نہ کرے۔ انہوں نے بچوں پر غیر حقیقی توقعات مسلط کرنے سے گریز کا مشورہ دیا اور کہا کہ کامیابی سے زیادہ بامعنی زندگی اہم ہے۔بھاگوت نے کہا کہ بھارت ’’ذہنی غلامی‘‘ سے نکل رہا ہے اور دنیا اس ملک کی طرف توقعات کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔(ایجنسیاں)










