نڈی پورہ: حکام نے جمعہ کے روز گریز کی جانب سے اسٹریٹجک بانڈی پورہ،گریز سڑک پر محدود گاڑیوں کی آمد و رفت بحال کر دی، جس سے خراب موسمی حالات کے باعث رابطہ منقطع ہونے سے دوچار مقامی آبادی کو عارضی راحت ملی ہے۔
عہدیداروں نے بتایا کہ موسم میں بہتری اور ضروری صفائی کے کام کی تکمیل کے بعد گریز کی جانب سے بانڈی پورہ کی طرف گاڑیوں کی کنٹرولڈ نقل و حرکت کی اجازت دی گئی ہے۔
یہ فیصلہ سڑک کی حالت اور حفاظتی معیارات کے جائزے کے بعد لیا گیا، بالخصوص ان حصوں میں جو برف باری اور برفانی تودوں کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔
بانڈی پورہ گریز سڑک وادیٔ گریز کو کشمیر کے دیگر علاقوں سے ملانے والی واحد زمینی شاہراہ ہے۔ سردیوں کے مہینوں میں اس کی بار بار بندش کے باعث اکثر ضروری اشیائے خورد و نوش کی قلت پیدا ہو جاتی ہے اور مقامی باشندوں، مریضوں اور طلبہ کی نقل و حرکت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
حکام نے واضح کیا کہ آمد و رفت صرف محدود بنیادوں پر بحال کی گئی ہے اور مسافروں کو سختی سے سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ڈرائیوروں کو لین ڈسپلن برقرار رکھنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور سڑک پر تعینات ٹریفک و روڈ مینٹیننس عملے سے تعاون کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
عہدیداروں نے خبردار کیا کہ سڑک اب بھی اچانک موسمی تبدیلیوں کے لیے حساس ہے اور آئندہ آمد و رفت کا انحصار موجودہ حالات پر ہوگا۔ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔گریز کے مقامی لوگوں نے رابطے کی جزوی بحالی کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اگر موسم مستحکم رہا تو آنے والے دنوں میں بلا تعطل آمد و رفت ممکن ہو سکے گی۔
دریں اثنا ضلعی انتظامیہ اننت ناگ نے سیکورٹی خدشات کے پیش نظر مرگان ٹاپ، چوہرن ناگ اور سنتھن ٹاپ کے حساس مقامات پر ٹریکنگ، کیمپنگ، ہائیکنگ اور دیگر آؤٹ ڈور سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے ۔
حکم نامے میں اس بات کا حوالہ دیا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں کچھ افراد نے رات کے وقت چیک پوائنٹس کو عبور کرنے کی کوشش کی جس سے سیکورٹی ایجنسیوں کے خدشات مزید بڑھ گئے ۔
انتظامیہ نے واضح کیا کہ ایسے حساس علاقوں میں بلا روک ٹوک نقل و حرکت اور غیر ضروری بیرونی سرگرمیاں عوامی سلامتی پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔
حکام کے مطابق پابندی دو ماہ تک نافذ العمل رہے گی، جب تک کہ اسے واپس نہ لیا جائے یا مدت میں توسیع نہ کی جائے ۔
اس دوران اسٹیشن ہاؤس آفیسر لارنو کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ احکامات پر سختی سے عمل درآمد کرائیں اور تمام چیک پوائنٹس پر نقل و حرکت کو منظم رکھیں۔
عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ حکم کی مکمل پابندی کریں، بصورت دیگر قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔










