سرینگر/۲۷ دسمبر
میرواعظ عمر فاروق کی جانب سے اپنے ایکس پروفائل سے ’چیئرمین حریت کانفرنس‘کا ٹیگ ہٹائے جانے کے ایک دن بعد، اپنی پارٹی کے سینئر نائب صدر غلام حسن میر نے ہفتے کے روز کہا کہ یہ فیصلہ جموں و کشمیر میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جو علیحدگی پسند بیانیے کے خاتمے اور نئی دہلی کے ساتھ شمولیت پر مبنی ایک نئے باب کے آغاز کا اشارہ ہے۔
ایک مقامی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے میر نے کہا کہ وہ سیاسی گروہ جو کبھی بھارت کے آئینی دائرہ کار سے باہر نعرے لگاتے تھے، اب انہوں نے ’’یہ قبول اور سمجھ لیا ہے کہ ان کا مستقبل بھارت کے ساتھ وابستہ ہے‘‘۔
اپنی پارٹی کے نائب صدر نے مزید کہا کہ کشمیر میں اب سیاسی گفتگو تصادم کے بجائے بقائے باہمی، وقار اور ترقی کے گرد گھوم رہی ہے۔
میر نے کہا’’وہ تمام لوگ، خواہ حریت جماعتوں سے تعلق رکھتے ہوں، جنہوں نے ماضی میں مختلف نعرے لگائے، اب انہوں نے یہ قبول اور سمجھ لیا ہے کہ ان کا مستقبل بھارت کے ساتھ ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم بھارت کے ساتھ باوقار طریقے سے اپنی زندگی کیسے گزار سکتے ہیں‘‘۔
اپنی پارٹی کے نائب صدر نے مرکز سے اپیل کی کہ اعتماد کی بحالی کے لیے منظم اور باضابطہ مکالمے کے راستے کھولے جائیں، بالخصوص نوجوانوں کے ساتھ، اور کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ بارہا کشمیر کے عوام سے براہِ راست بات چیت کی بات کر چکے ہیں۔
میر نے کہا’’جموں کشمیر کے عوام اور حکومتِ ہند کے درمیان شکوک و شبہات موجود ہیں۔ انہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے بارہا کہا ہے کہ وہ کشمیر کے عوام اور نوجوانوں سے بات کریں گے۔ یہ بالکل مناسب وقت ہے، کیونکہ یہاں چلنے والا علیحدگی پسند بیانیہ اب ختم ہو چکا ہے‘‘۔
اپنی پارٹی کے سینئر ،یڈر نے مزید کہا کہ حالیہ عوامی بیانات اور میرواعظ کے فیصلے جیسے علامتی اقدامات کے ذریعے نظر آنے والی سیاسی فضا میں تبدیلی نے روزگار، بنیادی ڈھانچے، سیاحت کی بحالی اور نچلی سطح پر معاشی ترقی پر مرکوز نئی سیاسی سوچ کے لیے گنجائش پیدا کر دی ہے۔
میر نے کہا کہ نئی سیاسی فضا اب نعروں کے بجائے ترقی سے تشکیل پائے گی۔ان کاکہنا تھا’’ترقی کا ایک نیا ماحول ابھرے گا، اور ایک نئی شمولیت کشمیر کے مستقبل کی سمت متعین کرے گی۔ویب ڈیسک‘‘










