نئی دہلی، 22 دسمبر (یواین آئی) حکومت نے عالمی منڈی میں ہندوستانی اداروں کے لیے مواقع بڑھانے کی سمت میں جاری کوششوں کے درمیان پیر کو نیوزی لینڈ کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے ) کا اعلان کیا۔ یہ اس سال برطانیہ اور عمان کے ساتھ ہوئے جامع اقتصادی تعاون کے معاہدوں کے بعد ہندوستان کا تیسرا معاہدہ ہے ۔
اس کے تحت نیوزی لینڈ اپنی تمام درآمدی اشیاء پر محصولات ختم کرے گا۔ اس سے ہندوستان سے جانے والے تمام مال کو وہاں بغیر کسی ڈیوٹی کے داخلہ ملے گا۔ اس اقدام سے ہندوستان کے کپڑا، ملبوسات، چمڑا، جوتے ، سمندری مصنوعات، جواہرات، دستکاری، انجینئرنگ اشیاء اور آٹوموبائل جیسے محنت پر مبنی شعبوں کی مسابقت بڑھے گی۔
یہ معاہدہ خدمات کے شعبے میں نیوزی لینڈ کی اب تک کی سب سے بڑی پیشکش ہے ، جس سے انفارمیشن ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ خدمات، تعلیم، مالیاتی خدمات، سیاحت، تعمیرات اور دیگر کاروباری خدمات میں ہندوستانی فراہم کنندگان کے لیے نئے مواقع کھلیں گے ۔
وزیر اعظم نریندر مودی اور نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن کے درمیان آج ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد ہندوستان-نیوزی لینڈ ایف ٹی اے کا مشترکہ اعلان کیا گیا۔ دونوں وزرائے اعظم کی رواں سال مارچ میں ہوئی گفتگو کے بعد مذاکرات شروع ہوئے تھے ۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ صرف نو ماہ کے ریکارڈ کم وقت میں مذاکرات مکمل ہونا مشترکہ عزم اور سیاسی خواہش کو ظاہر کرتا ہے ۔
نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم لکسن نے اس معاہدے کو اپنے ملک کے لیے تاریخی موقع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی آبادی والا ملک ہے اور سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت ہے ، جس سے نیوزی لینڈ کے عوام کے لیے روزگار، برآمدات اور اقتصادی ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے ۔
ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاہدے کی بنیاد پر دونوں رہنماؤں نے اگلے پانچ سالوں میں دو طرفہ تجارت کو دوگنا کرنے اور اگلے پندرہ سالوں میں نیوزی لینڈ سے ہندوستان میں 20 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری پر اعتماد ظاہر کیا ہے ۔
اس معاہدے کے تحت ہندوستان کے تمام مال کو نیوزی لینڈ کی منڈی میں صفر درآمدی ڈیوٹی پر داخلہ ملے گا۔ ہندوستان نے اپنے یہاں درآمد ہونے والے 70 فیصد مال پر نیوزی لینڈ کو ڈیوٹی میں نرمی دینے کی پابندی کی ہے ، جس سے وہاں سے آنے والے 95 فیصد مال کو فائدہ ہوگا۔
معاہدے میں طلبہ کے لیے خصوصی سہولتیں بھی شامل ہیں۔ نیوزی لینڈ میں تعلیم کے بعد کام کرنے کے لیے ویزا اور پیشہ ورانہ راستوں میں کوئی حد نہیں ہوگی۔ سائنس، ریاضی، انجینئرنگ اور مینجمنٹ کے طلبہ کو تین سال تک اور ڈاکٹریٹ طلبہ کو چار سال تک پوسٹ اسٹڈی ورک کے حقوق ملیں گے ۔










