جموں/۲۲ دسمبر
جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کابینہ اجلاس کی صدارت کی، جس میں اہم انتظامی اور ترقیاتی امور پر غور و خوض کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ’’آج وزیر اعلیٰ نے کابینہ اجلاس کی صدارت کی، جس میں اہم انتظامی اور ترقیاتی معاملات زیر غور آئے‘‘۔
اجلاس میں کونسل آف منسٹرز کے اراکین نے شرکت کی، جن میں نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری، وزراء سکینہ ایتو، جاوید احمد رانا، جاوید احمد ڈار اور ستیش شرما شامل تھے۔ چیف سیکریٹری اٹل ڈلو بھی اجلاس میں موجود تھے۔
اجلاس کے دوران زیر بحث آنے والے اہم نکات میں ایک پالیسی شامل تھی، جس کے تحت سیلاب کے باعث بے زمین ہونے والے افراد کو پانچ مرلے زمین الاٹ کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد متاثرہ خاندانوں کی مستقل باز آبادکاری کو یقینی بنانا ہے، تاکہ وہ اپنے مکانات اور روزگار کو از سرِ نو قائم کر سکیں۔
اس کے علاوہ دیگر انتظامی فیصلوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں کوآپریٹو بینکوں کے لیے مالی معاونت، مختلف عہدوں کی تنخواہوں میں بہتری اور عہدوں کی از سرِ نو نامزدگیاں شامل ہیں۔
ایک خبر رساں ایجنسی کے مطابق اجلاس کے دوران کابینہ وزراء نے وزیر اعلیٰ کو اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی، درپیش چیلنجز اور جاری پروگراموں کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور فیصلہ سازی کے عمل کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے ۔
میٹنگ میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل سے نہ صرف عوامی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ مجموعی طرزِ حکمرانی میں بھی بہتری آئے گی۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حکام کو ہدایت دی کہ عوامی فلاح سے جڑے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے اور زمینی سطح پر مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے ۔
واضح رہے کہ ۳ دسمبر کو عمر عبداللہ نے دربار موو کی بحالی کے بعد جموں میں اپنی پہلی کابینہ میٹنگ کی صدارت کی تھی۔










