وزیر اعلیٰ عمر‘ عبداللہ نے کہا ہے کہ طویل خشک سالی سے متاثرہ جموںکشمیر کو برفباری کا بے چینی سے انتظار ہے ‘‘۔
عمرعبداللہ جو ہفتہ کی شام وندے بھارت ٹرین سے سرینگر سے کٹرا پہنچ گئے نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا’’ نومبر سے جاری طویل خشک موسم نے مرکز کے زیرِ انتظام خطے میں پانی کی دستیابی، فضائی آلودگی اور موسمِ سرما کی سیاحت کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ کاکہنا تھا’’ہم بے چینی سے برفباری کے منتظر ہیں۔ نومبر سے موسم خشک ہے اور ہر جگہ ہمیں پانی کی کچھ نہ کچھ کمی محسوس ہو رہی ہے۔ جموں اور کشمیر دونوں خطوں میں آلودگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ چاہے بارش ہو یا برفباری، اس سے فضا صاف ہوگی۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارا موسمِ سرما کا سیاحتی سیزن شروع ہوگا‘‘۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ جموں میں پٹنی ٹاپ اور بھدرواہ جبکہ کشمیر میں پہلگام، گلمرگ اور سونمرگ جیسے اہم سیاحتی مقامات برفباری کے بعد دوبارہ زندگی سے بھر جائیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا’’ہمیں امید ہے کہ سیاح آئیں گے اور برف کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوں گے‘‘۔
اس سے پہلے وزیر اعلیٰ نے سرینگر میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں آئندہ ہفتے متوقع برفباری اور بارش کے پیش نظر انتظامیہ کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں کشمیر اور جموں دونوں ڈویڑنوں کے محکموں کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور عوامی زندگی میں کم سے کم خلل کو یقینی بنانے کیلئے ردِ عمل کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر غور کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دونوں ڈویڑنوں میں سرمائی تیاریوں کے منصوبے بڑی حد تک درست سمت میں ہیں، تاہم اصل امتحان ان منصوبوں کے زمینی سطح پر مؤثر نفاذ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس ہفتے کے آخر میں بارش اور برفباری متوقع ہے، لیکن امکان ہے کہ یہ شدت میں کم ہو، جس سے انتظامیہ کو اپنی تیاریوں کو مزید بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’سرمائی تیاریوں کے منصوبے رفتار پر ہیں، لیکن کسی بھی منصوبے کی اصل جانچ اس کے نفاذ میں ہوتی ہے۔ یہ متوقع موسمی صورتحال ہمیں سخت موسم سے قبل اپنی تیاریوں کو نکھارنے کا موقع فراہم کرتی ہے‘‘۔
عمرعبداللہ نے سردیوں کے دوران حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کو تین بنیادی نکات پر پرکھا جائے گا: سڑکوں کی بروقت صفائی، بجلی کی بلا تعطل فراہمی اور پینے کے پانی کی دستیابی۔
وزیر اعلیٰ نے زور دیا’’سڑکیں، بجلی اور پانی‘یہی ہماری سرمائی حکمتِ عملی کی اے بی سی ہیں۔ عوام کی نقل و حرکت، اسپتالوں تک رسائی اور روزمرہ زندگی کا دارومدار انہی پر ہے‘‘۔
عمرعبداللہ نے محکموں کو ہدایت دی کہ وہ ردِ عمل کے بجائے پیشگی تیاری کو ترجیح دیں اور جہاں ضرورت ہو، عملہ اور مشینری پہلے سے تعینات کی جائے۔ انہوں نے اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹس پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم بعض ایسے شعبوں کی نشاندہی بھی کی جن پر مزید توجہ درکار ہے۔
بجلی کے شعبے سے متعلق وزیر اعلیٰ نے ٹرانسفارمر آئل کی دستیابی کی سخت نگرانی کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ اس سال سپلائی میں اضافہ کیا گیا ہے اور اگر کہیں کمی سامنے آتی ہے تو اس کی وجہ ممکنہ چوری ہو سکتی ہے، جسے روکنا ضروری ہے۔ انہوں نے ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز کے بفر اسٹاک کے مؤثر استعمال پر بھی زور دیا۔
بارہمولہ اور بانڈی پورہ کے ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے گاڑیوں کی کمی کی نشاندہی پر وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ قلیل مدت کیلئے ضرورت کے مطابق گاڑیاں کرائے پر لی جائیں، تاکہ خراب ہونے والے ٹرانسفارمرز کو فوری طور پر تبدیل کیا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’جو گاڑی خراب ٹرانسفارمر ہٹانے جائے، وہی متبادل ٹرانسفارمر بھی ساتھ لے جائے۔ بفر اسٹاک کا مقصد یہی ہے کہ بجلی کی بندش کم سے کم ہو‘‘۔
صحت کے شعبے پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے۴x۴؍ایمبولینسوں کی محدود دستیابی کا اعتراف کیا، تاہم موجودہ وسائل کے مؤثر استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر علاقے کو فور بائی فور ایمبولینس کی ضرورت نہیں، بعض مقامات پر چینز لگی ایمبولینسیں کافی ہوتی ہیں۔ انہوں نے محکمہ صحت کو ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تال میل قائم کر کے ایمبولینسوں کی درست تعیناتی کی ہدایت دی۔
شہری تیاریوں، خصوصاً سرینگر میں، وزیر اعلیٰ نے پانی کی نکاسی کے انتظامات پر زور دیا اور ہدایت دی کہ سیلابی صورتحال سے متاثر ہونے والے علاقوں میں موبائل ڈی واٹرنگ پمپ پہلے سے نصب کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ سرینگر میں بھاری برفباری کی توقع نہیں ہے، اس لیے سرینگر میونسپل کارپوریشن کو پانی جمع ہونے کے مسئلے سے مؤثر طور پر نمٹنا ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے خراب موسم کے باعث سرینگر ایئرپورٹ پر پروازوں میں تعطل کے دوران مسافروں کو درپیش سہولیات پر بھی تشویش کا اظہار کیا، خاص طور پر جب سیاحتی سیزن کا آغاز ہو رہا ہے۔ انہوں نے ضلعی اور ڈویڑنل انتظامیہ کو ایئرپورٹ حکام کے ساتھ تال میل قائم کر کے صفائی اور بنیادی سہولیات، بالخصوص بیت الخلاؤں کی بہتر دیکھ بھال کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
دور دراز اور برف سے ڈھکے علاقوں کے لیے ہیلی کاپٹر سروسز کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ کپواڑہ اور بانڈی پورہ جیسے علاقوں میں جلد ہی ہیلی سروسز شروع کی جائیں گی۔
جموں ڈویڑن کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہاں برفباری سے نمٹنے کی تیاری بڑی حد تک مکمل ہے، تاہم انہوں نے ان سڑکوں پر خصوصی نگرانی کی ہدایت دی جو ستمبر۔اکتوبر کی شدید بارشوں کے بعد عارضی طور پر بحال کی گئی تھیں۔ انہوں نے لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات کے پیش نظر چوکسی بڑھانے اور متبادل راستے فوری طور پر قائم کرنے پر زور دیا۔
عمرعبداللہ نے خاص طور پر این ایچ۴۴ پر ناشری سے ادھم پور کے درمیان حصے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شدید بارش کی صورت میں قومی شاہراہ پر طویل بندش ناقابلِ قبول ہوگی۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ نے اعتماد ظاہر کیا کہ۲۴ گھنٹے فعال کنٹرول رومز کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ متوقع موسمی صورتحال سے حاصل ہونے والے تجربات کو مستقبل کی تیاریوں میں شامل کیا جائے گا تاکہ انتظامیہ کا ردِ عمل مزید مضبوط بنایا جا سکے۔










