جمعرات, جون 4, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

جولاہر لال نہرو لیکن سردار ولبھ بھائی پٹیل نہیں کیسے بھارت کے پہلے وزیراعظم بن گئے

وفاقی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اسے ووٹ چوری قرار دیا‘۱۹۴۶ کی کانگریس ووٹنگ کے پس منظر کی سیاست‘گاندھی نہرو کے حق میں تھے

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-12-12
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
جولاہر لال نہرو لیکن سردار ولبھ بھائی پٹیل نہیں کیسے بھارت کے پہلے وزیراعظم بن گئے
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

امت شاہ امر ناتھ یاترا انتظامات کا جائزہ لیںگے

شدید گرمی میں صرف پانی کافی نہیں، جسم کو الیکٹرولائٹس کی بھی ضرورت: ماہرین

کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے ’ووٹ چوری‘ کے الزام کے جواب میں، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھارت کی آزادی کے دور کی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے اس تاریخی عمل کا ذکر کیا، جس کے نتیجے میں جواہر لال نہرو آزاد بھارت کے پہلے وزیراعظم بنے۔
بدھ کو لوک سبھا میں شاہ نے دعویٰ کیا کہ ۱۹۴۶ میں، جب کانگریس اپنا صدر منتخب کر رہی تھی ‘ جو عبوری حکومت کے سربراہ اور بعد میں پہلے وزیراعظم کا تعین کرتا‘ تو ریاستی یونٹس کی اکثریت نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کی حمایت کی تھی۔ اس کے باوجود نہرو اتفاقِ رائے کے امیدوار بنے، ایک واقعہ جسے شاہ نے ’ووٹ چوری‘ قرار دیا۔
جس واقعے کی جانب شاہ نے اشارہ کیا، وہ۱۹۴۶ کی کانگریس صدارت کے انتخاب سے متعلق ہے … ایک ایسا لمحہ جس نے عبوری انتظامیہ اور عنقریب آزاد ہونے والے ملک کی قیادت دونوں کو شکل دی۔
دوسری جنگِ عظیم کے اختتام کے ساتھ، بھارتی نیشنل کانگریس اور برطانوی حکومت کے درمیان اقتدار کی منتقلی پر مذاکرات تیز ہو گئے۔ اس پس منظر میں کانگریس نے اندرونی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ‘ ایک معمول کا سالانہ عمل جو چھ سال تک ملتوی رہا تھا۔
عدم تعاون تحریک۴۱۔۱۹۴۰ کے اثرات، اعلیٰ قیادت کی قید، ۴۶۔۱۹۴۵ کے عام انتخابات، اور کیبنٹ مشن کی آمد نے اس تاخیر میں کردار ادا کیا۔
عام طور پر کانگریس صدارت کوئی بڑی تنفیذی طاقت نہیں رکھتی تھی۔ گاندھی کی غیر معمولی حیثیت کے باعث زیادہ تر تنظیمی فیصلے انہی کے ذریعے ہوتے۔ یہ منصب اکثر رسمی ہوتا تھا۔لیکن۱۹۴۶ میں معاملہ مختلف تھا۔ کانگریس صدر عبوری حکومت کا سربراہ بنتا، یعنی مستقبل کے آزاد بھارت کا عملی طور پر سربراہ۔
انتخاب کے تین سرکاری امیدوار پٹیل، نہرو اور آچاریہ جے بی کرپلانی تھے۔ موجودہ صدر مولانا ابوالکلام آزاد دوبارہ جاری رکھنے کی امید میں تھے اور کئی صوبائی کمیٹیوں نے ان کا نام تجویز کیا تھا۔مگر ووٹنگ سے چند روز قبل، کرپلانی اور پٹیل دونوں نے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کو مطلع کیا کہ وہ انتخاب سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں، جس سے نہرو واحد امیدوار رہ گئے۔تاہم ان دستبرداریوں کا پس منظر کافی پیچیدہ تھا۔
جیسا کہ راج موہن گاندھی اپنی کتاب Patel: A Life میں لکھتے ہیں، گاندھی نے۲۰؍ اپریل تک نجی طور پر واضح کر دیا تھا کہ ان کی ترجیح نہرو ہیں۔جب ایک اخبار نے اشارہ دیا کہ مولانا آزاد دوبارہ منتخب ہو سکتے ہیں، گاندھی نے انہیں خط لکھ کر اس پر تحفظات ظاہر کیے اور کہا کہ وہ واضح کریں کہ وہ جاری نہیں رہنا چاہتے۔ گاندھی نے لکھا’’موجودہ حالات میں اگر مجھ سے پوچھا جائے تو میں جواہر لال کو ترجیح دوں گا‘‘۔
گاندھی کی ترجیح کے باوجود، تنظیم میں پٹیل واضح پسندیدہ تھے:۱۵ میں سے۱۲ صوبائی کانگریس کمیٹیوں نے مبینہ طور پر ان کی حمایت کی، انہیں ایک مضبوط منتظم، قائد اور ’بھارت چھوڑو‘ تحریک کی نمایاں شخصیت سمجھتے ہوئے۔
گاندھی کی خواہش کے احترام میں، کرپلانی نے ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں نہرو کا نام تجویز کیا، اور اراکین … بشمول پٹیل نے اس پر دستخط کیے۔پھر کرپلانی نے اپنی نامزدگی واپس لے لی اور پٹیل کے لیے بھی دستبرداری کا نوٹ تیار کیا۔
گاندھی نے  باوجود اپنی واضح ترجیح کے ‘ نہرو کو موقع دیا کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں، کیونکہ کوئی صوبائی کمیٹی ان کی حمایت نہیں کر رہی تھی۔نہرو خاموش رہے، اور اس خاموشی کو دوسرے نمبر پر آنے کی عدم رضامندی سمجھا گیا۔گاندھی نے پھر پٹیل سے کہا کہ وہ دستبرداری پر دستخط کریں، اور انہوں نے بغیر اعتراض کے دستخط کر دیے۔یوں نہرو بلا مقابلہ منتخب ہو گئے۔
ایک مہینے بعد وائسرائے نے انہیں عبوری حکومت بنانے کی دعوت دی۔نہرو کے سوانح نگار مائیکل بریچر نے بعد میں لکھا’’اگر گاندھی نے مداخلت نہ کی ہوتی تو پٹیل بھارت کے پہلے عملی وزیراعظم ہوتے‘‘۔سردار’’انعام سے محروم کر دیے گئے تھے، اور یہ بات انہیں گہرے طور پر کھٹکی‘‘۔
ایک سال بعد، گاندھی نے علانیہ وجہ بیان کی’’جواہر لال کو آج بدلا نہیں جا سکتا جبکہ انگریزوں سے اختیارات لیے جا رہے ہیں‘‘۔گاندھی سمجھتے تھے کہ نہرو ‘ ہیرو اور کیمبرج کے تعلیم یافتہ، بیرسٹر ‘ برطانوی قیادت سے بات چیت کے لیے بہتر موزوں تھے۔گاندھی نے یہ بھی مانا کہ کچھ مسلمانوں میں نہرو کیلئے نرمی موجود تھی، جو پٹیل کے بارے میں کم واضح تھی۔
بین الاقوامی سطح پر بھی نہرو زیادہ معروف تھے، اور گاندھی کو یقین تھا کہ یہ مستقبل کے بھارت کو عالمی سطح پر مضبوط شناخت دے گا۔آخر میں، گاندھی کو یقین تھا کہ نہرو کی ترقی پٹیل کے کردار کو کم نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا’’وہ سرکاری گاڑی کے جتے ہوئے دو بیلوں کی طرح ہوں گے۔ ایک دوسرے کا محتاج ہوگا اور دونوں ساتھ چلیں گے‘‘۔
پٹیل نے نہ احتجاج کیا نہ گاندھی کے فیصلے کی مخالفت۔۷۱ سال کی عمر میں وہ جانتے تھے کہ ایسا موقع دوبارہ آنا مشکل ہے۔راج موہن گاندھی لکھتے ہیں کہ پٹیل کے قریبی ساتھی کہتے تھے کہ یہ انکار انہیں بہت دکھ پہنچا گیا۔دوسرے کہتے ہیں کہ اس فیصلے نے ان کے کام یا وابستگی پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔انتخاب کے ایک ہفتے بعد، پٹیل سب کو   بشمول گاندھی …’’خوب ہنسا رہے تھے۔‘‘(بشکریہ انڈئن ایکسپریس)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

مبینہ ملاوٹ شدہ انڈوں کی بازار میں دستیابی‘ تحقیقات کا حکم

Next Post

’دہشت گردوں کے رشتہ داروں کو نوکری نہیں مل سکتی‘

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

امت شاہ امر ناتھ یاترا انتظامات کا جائزہ لیںگے
اہم ترین

امت شاہ امر ناتھ یاترا انتظامات کا جائزہ لیںگے

2026-06-04
شدید گرمی میں صرف پانی کافی نہیں، جسم کو الیکٹرولائٹس کی بھی ضرورت: ماہرین
اہم ترین

شدید گرمی میں صرف پانی کافی نہیں، جسم کو الیکٹرولائٹس کی بھی ضرورت: ماہرین

2026-06-04
 راجوری میں انسدادِ دہشت گردی آپریشن ’شیرووالی‘ بارہویں روز بھی جاری
اہم ترین

 راجوری میں انسدادِ دہشت گردی آپریشن ’شیرووالی‘ بارہویں روز بھی جاری

2026-06-04
اننت ناگ:منشیات فروش کی ۶۰ لاکھ روہے کی جائیداد ضبط
اہم ترین

اننت ناگ:منشیات فروش کی ۶۰ لاکھ روہے کی جائیداد ضبط

2026-06-04
ریاستی درجے کی بحالی ‘این سی دہلی میں احتجاج کرے گی
اہم ترین

ریاستی درجے کی بحالی ‘این سی دہلی میں احتجاج کرے گی

2026-06-04
دہشت گردی سے متعلق مقدمے  میں کشمیر کے ۶؍اضلاع میں چھاپے
اہم ترین

دہشت گردی سے متعلق مقدمے میں کشمیر کے ۶؍اضلاع میں چھاپے

2026-06-04
بی جے پی پنڈتوں کے درد کی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی: کانگریس
اہم ترین

 کانگریس کا مہنگائی بے روزگاری اور  پرچہ لیک ہونے کے خلاف احتجاج

2026-06-04
وزیر اعلیٰ حکومت کو  وفاداری کی پریڈوں تک   محدود کر رہے ہیں: شرما
اہم ترین

وزیر اعلیٰ حکومت کو وفاداری کی پریڈوں تک  محدود کر رہے ہیں: شرما

2026-06-04
Next Post
’دہشت گردوں کے رشتہ داروں کو نوکری نہیں مل سکتی‘

’دہشت گردوں کے رشتہ داروں کو نوکری نہیں مل سکتی‘

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.