کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے ’ووٹ چوری‘ کے الزام کے جواب میں، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھارت کی آزادی کے دور کی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے اس تاریخی عمل کا ذکر کیا، جس کے نتیجے میں جواہر لال نہرو آزاد بھارت کے پہلے وزیراعظم بنے۔
بدھ کو لوک سبھا میں شاہ نے دعویٰ کیا کہ ۱۹۴۶ میں، جب کانگریس اپنا صدر منتخب کر رہی تھی ‘ جو عبوری حکومت کے سربراہ اور بعد میں پہلے وزیراعظم کا تعین کرتا‘ تو ریاستی یونٹس کی اکثریت نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کی حمایت کی تھی۔ اس کے باوجود نہرو اتفاقِ رائے کے امیدوار بنے، ایک واقعہ جسے شاہ نے ’ووٹ چوری‘ قرار دیا۔
جس واقعے کی جانب شاہ نے اشارہ کیا، وہ۱۹۴۶ کی کانگریس صدارت کے انتخاب سے متعلق ہے … ایک ایسا لمحہ جس نے عبوری انتظامیہ اور عنقریب آزاد ہونے والے ملک کی قیادت دونوں کو شکل دی۔
دوسری جنگِ عظیم کے اختتام کے ساتھ، بھارتی نیشنل کانگریس اور برطانوی حکومت کے درمیان اقتدار کی منتقلی پر مذاکرات تیز ہو گئے۔ اس پس منظر میں کانگریس نے اندرونی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ‘ ایک معمول کا سالانہ عمل جو چھ سال تک ملتوی رہا تھا۔
عدم تعاون تحریک۴۱۔۱۹۴۰ کے اثرات، اعلیٰ قیادت کی قید، ۴۶۔۱۹۴۵ کے عام انتخابات، اور کیبنٹ مشن کی آمد نے اس تاخیر میں کردار ادا کیا۔
عام طور پر کانگریس صدارت کوئی بڑی تنفیذی طاقت نہیں رکھتی تھی۔ گاندھی کی غیر معمولی حیثیت کے باعث زیادہ تر تنظیمی فیصلے انہی کے ذریعے ہوتے۔ یہ منصب اکثر رسمی ہوتا تھا۔لیکن۱۹۴۶ میں معاملہ مختلف تھا۔ کانگریس صدر عبوری حکومت کا سربراہ بنتا، یعنی مستقبل کے آزاد بھارت کا عملی طور پر سربراہ۔
انتخاب کے تین سرکاری امیدوار پٹیل، نہرو اور آچاریہ جے بی کرپلانی تھے۔ موجودہ صدر مولانا ابوالکلام آزاد دوبارہ جاری رکھنے کی امید میں تھے اور کئی صوبائی کمیٹیوں نے ان کا نام تجویز کیا تھا۔مگر ووٹنگ سے چند روز قبل، کرپلانی اور پٹیل دونوں نے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کو مطلع کیا کہ وہ انتخاب سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں، جس سے نہرو واحد امیدوار رہ گئے۔تاہم ان دستبرداریوں کا پس منظر کافی پیچیدہ تھا۔
جیسا کہ راج موہن گاندھی اپنی کتاب Patel: A Life میں لکھتے ہیں، گاندھی نے۲۰؍ اپریل تک نجی طور پر واضح کر دیا تھا کہ ان کی ترجیح نہرو ہیں۔جب ایک اخبار نے اشارہ دیا کہ مولانا آزاد دوبارہ منتخب ہو سکتے ہیں، گاندھی نے انہیں خط لکھ کر اس پر تحفظات ظاہر کیے اور کہا کہ وہ واضح کریں کہ وہ جاری نہیں رہنا چاہتے۔ گاندھی نے لکھا’’موجودہ حالات میں اگر مجھ سے پوچھا جائے تو میں جواہر لال کو ترجیح دوں گا‘‘۔
گاندھی کی ترجیح کے باوجود، تنظیم میں پٹیل واضح پسندیدہ تھے:۱۵ میں سے۱۲ صوبائی کانگریس کمیٹیوں نے مبینہ طور پر ان کی حمایت کی، انہیں ایک مضبوط منتظم، قائد اور ’بھارت چھوڑو‘ تحریک کی نمایاں شخصیت سمجھتے ہوئے۔
گاندھی کی خواہش کے احترام میں، کرپلانی نے ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں نہرو کا نام تجویز کیا، اور اراکین … بشمول پٹیل نے اس پر دستخط کیے۔پھر کرپلانی نے اپنی نامزدگی واپس لے لی اور پٹیل کے لیے بھی دستبرداری کا نوٹ تیار کیا۔
گاندھی نے باوجود اپنی واضح ترجیح کے ‘ نہرو کو موقع دیا کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں، کیونکہ کوئی صوبائی کمیٹی ان کی حمایت نہیں کر رہی تھی۔نہرو خاموش رہے، اور اس خاموشی کو دوسرے نمبر پر آنے کی عدم رضامندی سمجھا گیا۔گاندھی نے پھر پٹیل سے کہا کہ وہ دستبرداری پر دستخط کریں، اور انہوں نے بغیر اعتراض کے دستخط کر دیے۔یوں نہرو بلا مقابلہ منتخب ہو گئے۔
ایک مہینے بعد وائسرائے نے انہیں عبوری حکومت بنانے کی دعوت دی۔نہرو کے سوانح نگار مائیکل بریچر نے بعد میں لکھا’’اگر گاندھی نے مداخلت نہ کی ہوتی تو پٹیل بھارت کے پہلے عملی وزیراعظم ہوتے‘‘۔سردار’’انعام سے محروم کر دیے گئے تھے، اور یہ بات انہیں گہرے طور پر کھٹکی‘‘۔
ایک سال بعد، گاندھی نے علانیہ وجہ بیان کی’’جواہر لال کو آج بدلا نہیں جا سکتا جبکہ انگریزوں سے اختیارات لیے جا رہے ہیں‘‘۔گاندھی سمجھتے تھے کہ نہرو ‘ ہیرو اور کیمبرج کے تعلیم یافتہ، بیرسٹر ‘ برطانوی قیادت سے بات چیت کے لیے بہتر موزوں تھے۔گاندھی نے یہ بھی مانا کہ کچھ مسلمانوں میں نہرو کیلئے نرمی موجود تھی، جو پٹیل کے بارے میں کم واضح تھی۔
بین الاقوامی سطح پر بھی نہرو زیادہ معروف تھے، اور گاندھی کو یقین تھا کہ یہ مستقبل کے بھارت کو عالمی سطح پر مضبوط شناخت دے گا۔آخر میں، گاندھی کو یقین تھا کہ نہرو کی ترقی پٹیل کے کردار کو کم نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا’’وہ سرکاری گاڑی کے جتے ہوئے دو بیلوں کی طرح ہوں گے۔ ایک دوسرے کا محتاج ہوگا اور دونوں ساتھ چلیں گے‘‘۔
پٹیل نے نہ احتجاج کیا نہ گاندھی کے فیصلے کی مخالفت۔۷۱ سال کی عمر میں وہ جانتے تھے کہ ایسا موقع دوبارہ آنا مشکل ہے۔راج موہن گاندھی لکھتے ہیں کہ پٹیل کے قریبی ساتھی کہتے تھے کہ یہ انکار انہیں بہت دکھ پہنچا گیا۔دوسرے کہتے ہیں کہ اس فیصلے نے ان کے کام یا وابستگی پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔انتخاب کے ایک ہفتے بعد، پٹیل سب کو بشمول گاندھی …’’خوب ہنسا رہے تھے۔‘‘(بشکریہ انڈئن ایکسپریس)










