جموں کشمیر حکومت نے مبینہ طور پر بازار میں فروخت ہونے والے ملاوٹ شدہ انڈوں کے الزامات کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
اس سے پہلے حکمران جماعت کے ممبر اسمبلی‘تنویر صادق نے ممکنہ زہریلے اور سرطان پیدا کرنے والے مواد کے صحتِ عامہ کیلئے خطرہ ہونے پر تشویش ظاہر کی تھی۔
فوڈ، سول سپلائز اور کنزیومر افیئرز کے وزیر کے دفتر سے جاری سرکاری مواصلات کے مطابق، یہ معاملہ جے اینڈ کے قانون ساز اسمبلی کے رکن تنویر صادق کے سوشل میڈیا ہینڈل پر شیئر کی گئی پوسٹس کے ذریعے سامنے آیا۔ قانون ساز نے مبینہ طور پر جموں و کشمیر کے کچھ حصوں میں گردش کرنے والے ملاوٹ شدہ انڈوں کی اطلاعات کی نشان دہی کی تھی۔
وزیر کے دفتر نے نوٹ کیا کہ قانون ساز نے عوامی طور پر بھی یہ تشویش ظاہر کی کہ ایسی ملاوٹ صارفین کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے، جس کے بعد حکومت نے معاملے کا فوری جائزہ لینے کی ہدایت دی۔
اس کے جواب میں، ایف سی ایس اینڈ سی اے کے وزیر نے لیگل میٹالوجی ڈیپارٹمنٹ کے کنٹرولر کو ہدایت دی کہ وہ ان الزامات کا فوری طور پر جائزہ لیں اور تصدیق کریں۔ محکمے کو کہا گیا ہے کہ وہ وزیر کی بررسی کے لیے دو دن کے اندر تفصیلی رپورٹ جمع کرائے۔
عہدیداروں نے کہا کہ تحقیقات کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ آیا واقعی ملاوٹ شدہ انڈے فروخت کیے جا رہے ہیں، اور اگر یہ بات ثابت ہو جائے تو اس کے ماخذ کی شناخت کر کے صحتِ عامہ کے تحفظ کے لیے اصلاحی کارروائی کی جائے۔
صادق نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا’’نائٹروفیوران اور نائٹروایمیڈازول کے ذرات انڈوں میں پائے جانے کی رپورٹس پر انتہائی تشویش ہے، یہ ایسی ذرات ہیں جو اپنی سرطان پیدا کرنے والی اور زہریلی خصوصیات کی وجہ سے خوراک پیدا کرنے والے جانوروں میں سختی سے ممنوع ہیں‘‘۔
ان کا مزید کہنا تھا’’یہ مسئلہ اس لیے اور بھی سنگین ہو جاتا ہے کیونکہ انڈے بڑی تعداد میں بچوں، بزرگ شہریوں اور مریضوں کی جانب سے استعمال کیے جاتے ہیں‘‘۔ صادق نے مزید لکھا’’ڈاکٹرز اکثر انڈوں کو پروٹین کے بنیادی ذریعہ کے طور پر تجویز کرتے ہیں، جس سے یہ صحتِ عامہ کیلئے براہِ راست خطرہ بن جاتا ہے‘‘۔
حکمران جماعت کے ممبر اسمبلی نے یہ بیان اْس لیب رپورٹ کے پس منظر میں دیا جو ایک یوٹیوب چینل نے جاری کیا تھا، جس نے ملک بھر میں خوف کی لہر دوڑا دی، جب اس نے دعویٰ کیا کہ اسے نائٹروفیوران سے ماخوذ مرکبات…ایسے مادّے جو کئی ممالک میں ممنوع ہیں کیونکہ لیبارٹری تجربات میں ان کے ڈی این اے کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت دیکھی گئی…کے آثار ایگوز نامی پریمیم برانڈ کے انڈوں میں ملے ہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ ایگوز، جو اپنے انڈوں کو اینٹی بائیوٹک سے پاک، صاف ستھرا اور جڑی بوٹیوں سے خوراک دیے ہوئے کے طور پر مارکیٹ کرتا ہے، نے فوراً ایک بیان جاری کیا کہ اس کے انڈے ’’استعمال کے لیے محفوظ‘‘ ہیں اور ایف ایس ایس اے آئی کے معیار پر پورا اترتے ہیں۔
کمپنی نے ’اضافی یقین دہانی‘ کے طور پر این اے بی ایل منظور شدہ لیبارٹری کے ذریعے اضافی تھرڈ پارٹی ٹیسٹنگ بھی شروع کر دی ہے۔
صادق نے جموں و کشمیر حکومت پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کی ‘‘فوری تحقیقات’’ کرے۔
انہوں نے کہا’’میں معزز وزیرِ صحت ‘ معزز فوڈ اینڈ سپلائز وزیر اور ان کے محکمہ فوڈ اینڈ سپلائز و فوڈ سیفٹی حکام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ فوراً تحقیقات کریں، مارکیٹوں میں باقیات کے ٹیسٹ کرائیں، ماخذ کا سراغ لگائیں، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ ہماری عوام کی سلامتی کیلئے کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ اس معاملے کو انتہائی فوری حیثیت سے لیا جانا چاہیے۔‘‘










