قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے ) نے دہلی دھماکہ کیس کے سلسلے میں منگل کو جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں کئی مقامات پر چھاپے مارے ۔
کارروائی کے دوران این آئی اے نے دہلی سے گرفتار دو مرکزی ملزمان ڈاکٹر عدیل راتھر اور جاسر بلال وانی کو بھی ساتھ لائی تاکہ وہ تفتیشی مراحل میں بتائی گئی جگہوں کی براہِ راست نشاندہی کر سکیں۔
این آئی اے کی ٹیم نے صبح سویرے ہی مقامی پولیس کے ساتھ مل کر مٹن کے گھنے جنگلات کا محاصرہ کیا اور وہاں باریک بینی سے تلاشی مہم چلائی جس دوران متعدد جگہوں کی کھدائی اور تکنیکی معائنہ کیا گیا۔
این آئی اے کی قیادت میں کی گئی یہ کارروائیاں بتاتی ہیں کہ تفتیشی ٹیمیں زمینی سطح پر شواہد اور نیٹ ورک کے روابط کی کھوج کیلئے عینی شاہدین اور ملزمان کی مدد سے نشاندہی شدہ مقامات کا جائزہ لے رہی ہیں۔
ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملزمان کی جانب سے دی گئی معلومات نے تلاشی کی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
کارروائی کے دوران مقامی پولیس اور نیم فوجی دستوں نے حفاظتی انتظامات یقینی بنائے اور سرچ ٹیموں کو مکمل تحفظ فراہم کیا۔ مکینوں سے بھی گزارش کی گئی کہ کسی بھی مشکوک شے یا سرگرمی کے بارے میں فوراً متعلقہ حکام کو آگاہ کریں تاکہ تفتیشی عمل میں تعاون ممکن ہو سکے ۔
این آئی اے کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ پریس بریفنگ جاری نہیں کی گئی، البتہ تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ برآمد شدہ شواہد اور ملزمان کے بیانات کی تکنیکی جانچ کے بعد ممکنہ متعلقہ افراد یا مقامات کے خلاف مزید کارروائیاں عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔
اس پورے آپریشن کو حساس اور اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ملزمان کی جانب سے کی گئی نشاندہی نے کیس کی سمت متعین کرنے میں نئے زاویے کھول دیے ہیں۔
اس دروان دہلی کی ایک عدالت نے منگل کے روز لال قلعہ دھماکہ کیس کے ملزم عامر رشید علی کی این آئی اے حراست میں سات دن کی توسیع کر دی۔
۲ دسمبر کو عامر کو سات دن کی این آئی اے تحویل میں بھیجا گیا تھا۔
جموں و کشمیر کے رہائشی عامر پر الزام ہے کہ اس نے لال قلعہ دھماکے میں سہولت کاری کی۔ اسے ۱۶ نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ منگل کو اسے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج انجو باجج چندنا کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
این آئی اے نے اس کیس میں سات افراد کو گرفتار کیا ہے۔ یہ معاملہ ایک ’’وائٹ کالر‘‘ دہشت گردی کے نیٹ ورک سے جڑا ہوا ہے، جسے جموں و کشمیر پولیس نے بے نقاب کیا تھا۔
۱۰ نومبر کو دہلی میں لال قلعہ کے قریب ہونے والے دھماکے میں ۱۵؍افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دو درجن سے زیادہ افراد اس آئی ای ڈی دھماکے میں زخمی ہوئے جو ایک ہنڈائی آئی ۲۰کار میں ہوا، جسے عمر اْن نبی چلا رہا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ گاڑی عامر رشید علی کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔
این آئی اے نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا’’عامر کار کی خریداری میں سہولت فراہم کرنے کے لیے دہلی آیا تھا، جسے بعد میں گاڑی میں نصب آئی ای ڈی کے طور پر دھماکے کیلئے استعمال کیا گیا‘‘۔
ایجنسی نے اس ہلاک ڈرائیور کی شناخت عمر اْن نبی کے طور پر کی ہے، جو ضلع پلوامہ کا رہنے والا اور الفلاح یونیورسٹی، فرید آباد میں جنرل میڈیسن شعبے کا اسسٹنٹ پروفیسر تھا۔
این آئی اے نے عمر کی ایک اور گاڑی بھی قبضے میں لی ہے، جس کی ابھی فارنزک جانچ جاری ہے۔ ایجنسی اب تک ۷۳ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کر چکی ہے، جن میں دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد بھی شامل ہیں۔
ادھرقومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے منگل کو کہا کہ اس نے گزشتہ ماہ دہلی بم دھماکے کے معاملے میں ایک اور اہم ملزم کو گرفتار کیا ہے۔
ایک بیان میں این آئی اے نے کہا کہ بارہمول کے ڈاکٹر بلال نصیر ملّاآر سی۲۱/۲۰۲۵/این آئی اے/ڈی ایل آئی کیس میں گرفتار ہونے والے آٹھویں ملزم ہیں۔ اسے این آئی اے کی ایک ٹیم نے دہلی سے گرفتار کیا تھا۔این آئی اے نے اسے اس دہشت گردانہ حملے کے پیچھے کی سازش میں ملوث پایا جس میں لال قلعہ کے علاقے میں ۱۵؍ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
این آئی اے کی تحقیقات کے مطابق ‘ بلال نے جان بوجھ کر متوفی ملزم عمر ان نبی کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرکے پناہ دی تھی۔ اس پر دہشت گردانہ حملے سے متعلق شواہد کو تباہ کرنے کا بھی الزام ہے۔
این آئی اے مہلک دہشت گردانہ کارروائی کے پیچھے کی سازش کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی ایجنسی سازش کے تمام دھاگوں کو بے نقاب کرنے کیلئے مختلف مرکزی اور ریاستی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔










