نئی دہلی، 8 دسمبر (یو این آئی) سپریم کورٹ نے انڈیگو ایئرلائنز کی جانب سے بڑے پیمانے پر پروازیں منسوخ کرنے اور تاخیر کے باعث پورے ملک میں پیدا ہونے والے بحران پر پیر کے روز تشویش کا اظہار کیا، لیکن فوری عدالتی مداخلت کی درخواست پر فوری سماعت سے انکار کر دیا۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باگچی کی بنچ نے اپنے تبصرے میں کہا کہ لاکھوں مسافر ہوائی اڈوں پر پھنسے ہوئے ہیں اور اس پریشانی کے باعث کئی افراد کو صحت سے متعلق مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔
عدالت نے فوری سماعت سے اس لیے انکار کیا کہ مرکزی حکومت پہلے ہی اس بحران سے آگاہ ہے اور اس پر کارروائی کر رہی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ”یہ ایک سنگین معاملہ ہے ۔ لاکھوں لوگ ہوائی اڈوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ صحت سے متعلق مسائل اور دیگر مشکلات ہو سکتی ہیں، لیکن مرکزی حکومت نے بروقت کارروائی کی ہے اور اس مسئلے کا نوٹس لیا ہے ۔”
اس سلسلے میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ ایئرلائن میں عملی وسائل کی کمی، خاص طور پر پائلٹوں کے بحران اور نئے ‘فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لمٹیشن’ قواعد کو نافذ کرنے میں مشکلات کی وجہ سے مسافروں کو اطلاع دیے بغیر بڑے پیمانے پر پروازیں منسوخ کی جا رہی ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ ”مسافروں کو اطلاع نہیں دی جا رہی ہے اور مزید کہا کہ انڈیگو میں خالی آسامیوں اور اندرونی بدانتظامی نے بحران کو بڑھا دیا ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ ملک کی ایوی ایشن مارکیٹ میں تقریباً 60 فیصد حصہ رکھنے والی انڈیگو کمپنی پائلٹس کی کمی سے بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ اگرچہ سول ایوی ایشن ڈائریکٹوریٹ نے ایئرلائن کو کچھ چھوٹ دی ہے ، لیکن اہم ہوائی اڈوں پر پروازیں منسوخ ہونا جاری ہے ، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔
مزید برآں، ریفنڈ اور مسافروں کی معاونت سے متعلق ایک عرضی دہلی ہائی کورٹ میں بھی دائر کی گئی ہے ۔ جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تشار راؤ گڈیلا کی بنچ نے مرکزی حکومت کے جواب کو نوٹ کرتے ہوئے معاملے کی سماعت بدھ کے روز کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے ۔










