عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) کے چیف ترجمان انعام ان نبی نے آج میڈیا کے ساتھ وہ خط شیئر کیا جو بارہمولہ کے رکنِ پارلیمان انجینئر رشید نے جموں و کشمیر میں لیفٹیننٹ گورنر اور چیف منسٹر کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم رابطے کے مسئلے پر وزیراعظم نریندر مودی کو لکھا ہے۔
وزیراعظم کو لکھے اپنے خط میں انجینئر رشید نے تحریر کیا’’میں آپ کو اس گہری تشویش کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ جموں و کشمیر میں لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ اور چیف منسٹر کے دفتر کے درمیان بڑھتا ہوا انتظامی اختلاف روزمرہ کی حکمرانی اور ضروری عوامی خدمات کی فراہمی کو متاثر کرنے لگا ہے‘‘۔
انجینئر رشید نے خبردار کیا کہ یہ صورتِ حال ’’شہریوں میں بے یقینی پیدا کر رہی ہے اور اہم ترقیاتی و فلاحی معاملات میں فیصلہ سازی کی رفتار سست پڑ گئی ہے‘‘۔
عوام پر پڑنے والے اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے انجینئر رشید نے لکھا’’جموں و کشمیر کے لوگ پہلے ہی مشکل سماجی و معاشی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مختلف ترقیاتی کام، عوامی شکایات اور معمول کے انتظامی فیصلے مبینہ طور پر اس کشیدگی یا غیر واضح اختیارات کے سبب تاخیر کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ سے عام لوگوں میں اضطراب بڑھ رہا ہے جو حکومت کی طرف امید اور توقعات کے ساتھ دیکھتے ہیں‘‘۔
وزیراعظم سے براہِ راست مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے رکنِ پارلیمان نے کہا’’صرف آپ کی مداخلت ہی خوشگوار حکمرانی، ذمہ داریوں کی وضاحت، اور دونوں اداروں کی ساکھ کو وسیع تر عوامی مفاد کیلئے بحال کر سکتی ہے‘‘۔
رشید نے اپنے خط کا اختتام مربوط حکمرانی کی اپیل کے ساتھ کیا’’میں مؤدبانہ گزارش کرتا ہوں کہ آپ اس معاملے پر توجہ دیں اور وہ اقدامات کریں جنہیں آپ مناسب سمجھیں تاکہ لیفٹیننٹ گورنر اور چیف منسٹر کے درمیان ہم آہنگی برقرار رہے، اور حکمرانی مستحکم، جوابدہ اور عوامی مرکزیت پر قائم رہ سکے۔‘‘








