ہم … ہم انسان بھی بڑے کمال کے ہیں … کیا واقعی کمال کے ہیں ‘ اصل میں یہ ہم نہیں جانتے ہیں کہ جو ہم جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم بڑے نازک اور تند مزاج کے ہیں… اور سو فیصد ہیں۔ وہ کیا ہے کہ سرینگر کے گلی کوچوں … اب ہم شہر کے ہر ایک گلی کوچے کی بات نہیں کررہے ہیں… بالکل بھی نہیں کررہے ہیں… بلکہ کچھ ایک کی کررہے ہیں… اور ان کچھ ایک میں ایک دو ریچھ کیا نظر آئے کہ … کہ ان کا نظر آنا ابھی بھی سرخیوں… اخبارات کی سرخیو ں میں ہے… کئی دنوں سے سرخیوں میں بنا ہوا ہے… سوال کئے جا رہے ہیں … پوچھا جارہا ہے… ان کے شہری رہائشی علاقوں میں آنے جانے پر اعتراضات بھی کئے جا رہے ہیں… اور اعتراض صحیح بھی ہیں… لیکن… لیکن ساتھ ہی یہ ہماری‘ ہم انسانوں کی چغلی بھی کھا رہے ہیں… ہماری نازک اور تند مزاجی کی… کہ… کہ ہم ایک آدھ ریچھ کی رہائشی علاقوں میں موجودگی … یا درانداری یا گھسپیٹ پر معترض ہیں… لیکن حضرت انسان جو ریچھ اور دوسرے جانوروں کے رہائشی علاقوں… یعنی جنگلات میں جو دراندازی جو گھسپیٹ کررہا ہے اور لگاتار کررہا ہے… سالہا سال سے کررہا ہے… دن رات اور رات دن کررہا ہے … اس کا کیا ؟ اس بارے میں تو اخبارات میں کبھی کوئی سرخی ہمیں نظر نہیں آ رہی ہے… اس پر تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے‘ کوئی سوال نہیں کررہاہے‘ کوئی پوچھ نہیں رہا ہے کہ صاحب یہ کیا ہو رہا ہے… یہ آپ کیا کررہے ہیں… سب خاموش بیٹھے ہیں اور… اوراس لئے بیٹھے ہیں کیونکہ جنگلی جانور خاموش ہیں… ان بے چاروں کی کوئی زبان نہیں ہے… یہ بے زبان ہیں… ان کے ہاں کوئی اخبار نہیں ‘ کوئی سوشل میڈیا نہیں … سی سی ٹی وی کیمرے نہیں جو یہ دکھاتے کہ… کہ کس طرح انسان ان کے گھروں میں گھس جاتا ہے …اپنے مطلب ‘ اپنے مفادات کیلئے گھس جاتا ہے اور… اور سالہاسال سے ان کی رہائشگاہوں ‘ ان کے آشیانوں … کے پیڑ پودوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑا ہے… پیڑوں پودوں کو زمین سے اکھاڑ نے کے پیچھے پڑا ہے… لیکن یہ بے زبان اُف تک نہیں کررہے ہیں… اُف تک نہیں کر سکتے ہیں… خاموشی سے یہ ظلم سہہ رہے ہیں… اورجب یہ کہیں کسی شہری رہائشی علاقے میں بھٹک جاتے ہیں تو … تو ہم آسمان سر پر اُٹھاتے ہیں … ہے نا؟




