سرینگر/یکم دسمبر
بھارت کے تازہ زلزلہ خطرہ نقشے میں جموں و کشمیر کو مکمل طور پر نئے قائم شدہ سب سے زیادہ خطرے والے زون میں رکھا گیا ہے، جو ملک کی زلزلہ بندی میں کئی برسوں کے بعد سب سے بڑی تبدیلی ہے۔
یہ نقشہ چند روز قبل بھارتی معیارات کے ادارے(بی آئی ایس) نے ۲۰۲۵ کے زلزلہ حفاظتی قواعد کے حصے کے طور پر جاری کیا، جس میں پورے ہمالیائی سلسلے‘ بشمول جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام اضلاع ‘ کو سب سے خطرناک درجہ میں رکھا گیا ہے۔
نئی درجہ بندی ایسے جدید سائنسی طریقوں پر مبنی ہے جو زمین کی حرکت پیدا کرنے والی دراڑوں (فالٹس)، ان سے ممکنہ دراڑ کے زیادہ سے زیادہ پھیلاؤ، زمین کے جھٹکوں کی شدت اور زیر زمین چٹانوں کی نوعیت کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔ یہ طریقہ کار پرانے انداز کو بدل دیتا ہے جو صرف پچھلے زلزلوں کے ریکارڈ اور مٹی کی اقسام پر انحصار کرتے تھے۔
بی آئی ایس کاکہنا ہے کہ نئے اصول یہ واضح انداز میں بتاتے ہیں کہ ممکنہ زلزلے زمین کو کس حد تک جھنجھوڑ سکتے ہیں، تاکہ عمارتوں کے ڈھانچے موجودہ سائنسی جانکاری کے مطابق بنائے جائیں، نہ کہ پرانی مفروضوں کے مطابق۔
ماہرین کے مطابق یہ بڑا قدم اس غلطی کو درست کرتا ہے جس میں پورے ہمالیہ جیسے یکساں طور پر خطرناک خطے کو پہلے دو مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر وِنت گہلاؤت کے مطابق نئی درجہ بندی ان گہری زمینی دراڑوں کے خطرے کو تسلیم کرتی ہے جن میں دہائیوں سے دباؤ جمع ہو رہا ہے اور جو کئی سو برسوں سے کوئی بڑا زلزلہ پیدا نہیں کر رہیں ‘ یہی وہ فالٹس ہیں جن سے بڑے زلزلے کا اندیشہ رہتا ہے۔ پرانے نقشے ان خطرات کو کم سمجھتے تھے۔
نئے قواعد کے مطابق جموں و کشمیر میں عمارتوں کو اب انتہائی سخت جھٹکوں کے مطابق ڈیزائن کرنا ہوگا، خاص طور پر اْن علاقوں میں جہاں زمین کی دراڑیں موجود ہیں۔
اس میں عمارت کے جھکاؤ کی حد، لوہے اور کنکریٹ کی لچک، اور زلزلے کی توانائی کو برداشت کرنے کی صلاحیت کے اصول پہلے سے زیادہ سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ بڑے حادثات سے بچا جا سکے۔
غیر ساختی حصے ‘ جیسے چھجے، چھتیں، پانی کی ٹنکیاں، سجے ہوئے بیرونی پینل، برقی تاریں اور لٹکے ہوئے فکسچر ‘کو اب لازمی طور پر مضبوطی سے جکڑنا ہوگا، کیونکہ اکثر زلزلوں میں یہی حصے گر کر زیادہ نقصان اور چوٹ کا سبب بنتے ہیں۔
نئے اصول نرم مٹی، زمین کے بیٹھ جانے کے خطرے اور ہر علاقے میں زمین کے جھٹکوں کے مختلف ردعمل پر بھی زور دیتے ہیں۔ اس کیلئے کمزور علاقوں میں نئی تعمیرات سے پہلے زمین کی جانچ ضروری ہوگی۔
اہم عمارتیں ‘ جیسے اسپتال، اسکول، پل اور سرکاری دفاتر‘ اب اس طرح بنائے جائیں گے کہ بڑے زلزلے کے بعد بھی ان کی خدمات جاری رہ سکیں۔
۲۰۲۵ کے نقشے میں ایک نیا ’سامراجی خطرہ جائزہ‘ بھی شامل کیا گیا ہے، جس میں آبادی کی کثرت، عمارتوں کا زور اور لوگوں کی معاشی حساسیت کو بھی خطرے کے درجوں میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سے سرینگر، جموں، اننت ناگ اور بارہمولہ جیسے شہروں کی منصوبہ بندی مزید اہم ہو جاتی ہے، جہاں درمیانے درجے کے جھٹکے بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
ہمالیہ خطے میں تو بڑی تبدیلی آئی ہے، مگر جنوبی بھارت کے نسبتاً محفوظ علاقوں میں صرف معمولی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔چونکہ اب ملک کا ۶۱ فیصد حصہ درمیانے سے زیادہ خطرے والے علاقوں میں شامل ہو گیا ہے، اس لیے انجینئروں، منصوبہ سازوں اور مقامی اداروں کو فوراً نئے اصول اپنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ماہرین نے کہا کہ یہ نقشہ کسی فوری زلزلے کی پیش گوئی نہیں ہے بلکہ ایک سائنسی تنبیہ ہے اور جموں و کشمیر کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ پیشگی تیاری کے ذریعے اپنی حفاظت مضبوط بنائے۔
۔۔۔۔۔۔۔










