سرینگر/۲۹ نومبر
سرحدی حفاظتی فورس( بی ایس ایف) کے سینئر افسران نے ہفتے کو بتایا کہ ’آپریشن سندور‘ کے بعد پاکستان نے چھ درجن سے زائد دہشت گرد لانچ پیڈ سرحدی علاقوں سے ہٹا کر اندرونی مقامات پر منتقل کر دیے ہیں، اور اگر حکومت سرحد پار کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو فورس دشمن کو بھاری نقصان پہنچانے کیلئے تیار ہے۔
افسر ان نے کہا کہ بی ایس ایف ۷سے ۱۰ مئی تک چار روزہ جھڑپوں کے بعد فوجی کارروائی کے رْکے ہوئے مرحلے کا احترام کر رہی ہے۔
بی ایس ایف کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل وکرم کنور نے یہاں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا’’جب بی ایس ایف نے آپریشن سندور کے دوران سرحد کے ساتھ کئی دہشت گرد لانچ پیڈ تباہ کیے، تو پاکستان حکومت نے ایسی تمام سہولیات اندرونی علاقوں میں منتقل کر دیں…سیالکوٹ اور ظفر وال کے اندرونی علاقوں میں تقریباً ۱۲ لانچ پیڈ کام کر رہے ہیں، جو بالکل سرحد پر نہیں ہیں۔اسی طرح،۶۰ لانچ پیڈ سرحد سے دور دوسرے اندرونی علاقوں میں فعال ہیں‘‘۔
کنور نے بی ایس ایف آئی جی جموں فرنٹیئر ششانک آنند اور ڈی آئی جی کْلوَنت رائے شرما کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا، جس میں انہوں نے ۲۰۲۵ میں فورس کی کارکردگیوں کو اجاگر کیا، بشمول آپریشن سندور ‘ جو ۲۲؍ اپریل پہلگام مجرمانہ قتل عام (۲۶ ہلاکتیں) کے سرحد پار روابط کے بعد بھارت کا عسکری جواب تھا۔
افسران نے کہا کہ لانچ پیڈز اور ان میں موجود دہشت گردوں کی تعداد تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ان کاکہنا تھا’’وہ وہاں مستقل نہیں بیٹھتے۔ یہ لانچ پیڈ عام طور پر اس وقت فعال ہوتے ہیں جب دہشت گردوں کو (بھارت میں) دھکیلنا ہوتا ہے… انہیں دو سے تین گروپس سے زیادہ نہیں رکھا جاتا‘‘۔
ڈی آئی جی کنور نے بتایا کہ اس وقت بین الاقوامی سرحد کے قریب کوئی تربیتی کیمپ موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ رپورٹیں عمومی طور پر لانچ پیڈز میں موجود دہشت گردوں کی تعیناتی کی نشاندہی کرتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انہیں دوسری جگہوں پر منتقل کرنے سے پہلے تربیت دی جا رہی ہے۔
ڈی آئی جی کنور نے مزید کہا’’پہلے انہوں نے کچھ علاقے مخصوص کر رکھے تھے … جہاں جیشِ محمد کے لوگ نچلی جانب فعال رہتے تھے اور لشکرِ طیبہ کے اوپر والے علاقوں میں۔ آپریشن سندور کے بعد انہوں نے ایک مشترکہ گروپ بنا لیا ہے۔ جو چاہے وہ اس مشترکہ گروپ میں تربیت حاصل کر سکتا ہے‘‘۔
آئی جی آنند نے کہا کہ اگر حکومت ’آپریشن سندور‘ دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو بی ایس ایف تیار ہے۔انہوں نے کہا’’۱۹۶۵‘۱۹۷۱؍اور۱۹۹۹کی کرگل جنگ یا آپریشن سندور … بی ایس ایف کو ہر طرح کی جنگوں کا وسیع تجربہ ہے، چاہے وہ روایتی ہوں یا ہائبرڈ۔ ہم تیار ہیں۔اگر ہمیں موقع ملا، تو ہم مئی کے مقابلے میں اور زیادہ نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حکومت جو بھی پالیسی طے کرے، بی ایس ایف اس میں اپنا کردار ادا کرے گی‘‘۔
آنند سے جب پوچھا گیا کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستانی رینجرز اپنی پوسٹیں چھوڑ کر کیوں بھاگے، تو آئی جی نے کہا کہ صورت حال معمول پر آنے کے بعد ضروری ہے کہ سب اپنی اپنی پوزیشن پر واپس جائیں۔
انہوں نے کہا’’بی ایس ایف کی طرف سے پہنچائے گئے نقصانات سے سنبھلنے میں انہیں بہت وقت لگا۔ بعض مقامات پر انہوں نے اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن ان کی تمام سرگرمیاں ہماری نگرانی میں ہیں‘‘۔
آئی جی نے کہا کہ بی ایس ایف بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق اپنی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور ’’جب ہمیں موقع ملے گا، ہم مناسب کارروائی کریں گے‘‘۔انہوں نے کہا’’فی الحال سرحد پر دہشت گردوں کی کوئی ایسی نقل و حرکت نہیں ہے جو خطرے کی گھنٹی بجائے۔‘‘
ان کاکہنا تھا کہ بارڈر سیکورٹی فورس جموں خطّے میں دہشت گردوں کی سرحد پار دراندازی کو ’صفر‘ پر رکھنے کے لیے پوری طرح چوکس ہے۔ان کاکہنا تھا کہ سیلاب سے تباہ ہونے والا انفراسٹرکچر ایک ماہ کے اندر بحال اور مضبوط کر دیا گیا۔
آئی جی آنند نے یہ بھی کہا کہ فورس کے پاس سردیوں کے مہینوں کے لیے جدید ترین آلات موجود ہیں، جن میں وہ آلات بھی شامل ہیں جو کہ دھند والی صورتِ حال میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔’’جموں کے اس حساس سرحدی خطّے میں، بی ایس ایف سال کے ۳۶۵ دن اور۲۴ گھنٹے، رات ہو یا دن، کسی بھی صورتحال اور موسم …بارش، دھند، سردی یا گرمی ‘ میں چوکس رہتی ہے۔ ہمیں اس بات کی تربیت دی گئی ہے کہ پوسٹس نہ چھوڑیں‘‘۔
بی ایس ایس کے سینئر افسرنے کہا’’ہمارے دو بہادر اہلکار مئی میں آپریشن سندور کے دوران دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے، جبکہ ہمارے ایک بہادر اہلکار نے ستمبر میں پرگوال میں ایک فارورڈ پوسٹ پر تعیناتی کے دوران ڈوب کر جان دے دی، باوجود اس کے کہ وہ اچھا تیراک تھا۔ اس نے بارڈر پوسٹ نہیں چھوڑی اور موت کو قبول کیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے جوان ملک کو سب سے اوپر رکھتے ہیں‘‘۔
انہوں نے کہا کہ سرحد کی حفاظت کرنے والی فورس ہمیشہ چوکس رہتی ہے اور سرحد پار سرگرمیوں سے باخبر رہتی ہے۔ اپنے قابلِ اعتماد ذرائع رکھنے کی وجہ سے اسے دہشت گردوں کی ممکنہ دراندازی کی کوششوں کے بارے میں بروقت اطلاعات ملتی رہتی ہیں۔ان کاکہنا تھا’’اور اگر میں جموں و کشمیر خطّے کی بات کروں تو مختلف ایجنسیاں مل کر کام کرتی ہیں۔ یہاں بی ایس ایف، فوج، انٹیلیجنس بیورو، اسپیشل بیورو، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی اور کئی دیگر ادارے ہیں جن کے ذریعے ہمیں مسلسل ان پْٹس موصول ہوتے رہتے ہیں۔‘‘ جموں بی ایس ایف چیف نے کہا اور عوام کو یقین دلایا کہ فورس ہر چیلنج کے لیے تیار ہے۔
آنند نے کہا کہ بی ایس ایف سرحد کے ساتھ ‘‘صفر دراندازی’’ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کر رہی ہے۔اگست،ستمبر میں آنے والے سیلاب سے انسدادِ دراندازی گرِڈ کو پہنچنے والے شدید نقصان کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے تسلیم کیا کہ سرحدی ڈھانچہ متاثر ہوا تھا۔(ندائے مشر ق ڈیسک)










